سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب فيمن حلف على الطعام لا يأكله
باب: کسی چیز کے نہ کھانے کی قسم کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3270
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، أَوْ عَنْ أَبِي السَّلِيلِ عَنْهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ:" نَزَلَ بِنَا أَضْيَافٌ لَنَا، قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَتَحَدَّثُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَ:" لَا أَرْجِعَنَّ إِلَيْكَ حَتَّى تَفْرُغَ مِنْ ضِيَافَةِ هَؤُلَاءِ، وَمِنْ قِرَاهُمْ، فَأَتَاهُمْ بِقِرَاهُمْ، فَقَالُوا: لَا نَطْعَمُهُ حَتَّى يَأْتِيَ أَبُو بَكْرٍ، فَجَاءَ، فَقَالَ: مَا فَعَلَ أَضْيَافُكُمْ، أَفَرَغْتُمْ مِنْ قِرَاهُمْ؟، قَالُوا: لَا، قُلْتُ: قَدْ أَتَيْتُهُمْ بِقِرَاهُمْ فَأَبَوْا، وَقَالُوا: وَاللَّهِ لَا نَطْعَمُهُ حَتَّى يَجِيءَ، فَقَالُوا: صَدَقَ، قَدْ أَتَانَا بِهِ، فَأَبَيْنَا حَتَّى تَجِيءَ، قَالَ: فَمَا مَنَعَكُمْ؟، قَالُوا: مَكَانَكَ، قَالَ: وَاللَّهِ لَا أَطْعَمُهُ اللَّيْلَةَ، قَالَ: فَقَالُوا: وَنَحْنُ وَاللَّهِ لَا نَطْعَمُهُ حَتَّى تَطْعَمَهُ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ فِي الشَّرِّ كَاللَّيْلَةِ قَطُّ، قَالَ: قَرِّبُوا طَعَامَكُمْ، قَالَ: فَقَرَّبَ طَعَامَهُمْ، فَقَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، فَطَعِمَ وَطَعِمُوا، فَأُخْبِرْتُ أَنَّهُ أَصْبَحَ، فَغَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي صَنَعَ، وَصَنَعُوا، قَالَ: بَلْ أَنْتَ أَبَرُّهُمْ وَأَصْدَقُهُمْ".
عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں ہمارے کچھ مہمان آئے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر بات چیت کیا کرتے تھے (جاتے وقت) کہہ گئے کہ میں واپس نہیں آ سکوں گا یہاں تک کہ تم اپنے مہمانوں کو کھلا پلا کر فارغ ہو جاؤ (یعنی میں دیر سے آ سکوں گا تم انہیں کھانا وغیرہ کھلا دینا) تو وہ (عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ) ان کا کھانا لے کر آئے تو مہمان کہنے لگے: ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آئے بغیر نہیں کھائیں گے، پھر وہ آئے تو پوچھا: کیا ہوا تمہارے مہمانوں کا؟ تم کھانا کھلا کر فارغ ہو گئے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: میں ان کا کھانا لے کر ان کے پاس آیا مگر انہوں نے انکار کیا اور کہا: قسم اللہ کی جب تک وہ (ابوبکر) نہیں آ جائیں گے ہم نہیں کھائیں گے، تو ان لوگوں نے کہا: یہ سچ کہہ رہے ہیں، یہ ہمارے پاس کھانا لے کر آئے تھے، لیکن ہم نے ہی انکار کر دیا کہ جب تک آپ نہیں آ جاتے ہیں ہم نہیں کھائیں گے، آپ نے کہا: کس چیز نے تمہیں کھانے سے روکا؟ انہوں نے کہا: آپ کے نہ ہونے نے، انہوں نے کہا: قسم اللہ کی میں تو آج رات کھانا نہیں کھاؤں گا، مہمانوں نے کہا: جب تک آپ نہیں کھائیں گے ہم بھی نہیں کھائیں گے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: آج جیسی بری رات میں نے کبھی نہ دیکھی، پھر کہا: کھانا لاؤ تو ان کا کھانا لا کر لگا دیا گیا تو انہوں نے «بسم الله» کہہ کر کھانا شروع کر دیا، مہمان بھی کھانے لگے۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے اطلاع دی گئی کہ صبح اٹھ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، اور جو کچھ انہوں نے اور مہمانوں نے کیا تھا اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان لوگوں سے زیادہ قسم کو پورا کرنے والے اور صادق ہو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3270]
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں کچھ مہمان آ گئے، جبکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گفتگو میں مشغول ہو جایا کرتے تھے، تو انہوں نے کہا: ”میرے آنے تک تم ان کی ضیافت اور خدمت سے فارغ ہو جانا۔“ چنانچہ میں ان کے پاس ان کی ضیافت لے کر آیا تو انہوں نے کہا: ”ہم نہیں کھائیں گے حتیٰ کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ آ جائیں۔“ چنانچہ وہ (دیر سے) آئے اور پوچھا: ”تمہارے مہمانوں کا کیا ہوا، کیا تم ان کی مہمانداری سے فارغ ہو چکے ہو؟“ گھر والوں نے کہا: ”نہیں۔“ میں نے عرض کیا کہ میں ان کے پاس ان کی ضیافت لے گیا تھا مگر انہوں نے انکار کر دیا اور کہا: ”اللہ کی قسم! ہم نہیں کھائیں گے حتیٰ کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ آ جائیں۔“ ان مہمانوں نے بھی تصدیق کی کہ یہ ہمارے پاس ضیافت لایا تھا مگر ہم نے انکار کر دیا حتیٰ کہ آپ آ جائیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”تمہیں (میرے بغیر) کھانے سے کیا مانع رہا؟“ انہوں نے کہا: ”آپ کے باعث (آپ کی عدم موجودگی)۔“ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”قسم اللہ کی! میں آج رات یہ نہیں کھاؤں گا۔“ تو انہوں نے کہا: ”اور ہم بھی اللہ کی قسم! نہیں کھائیں گے حتیٰ کہ آپ کھائیں گے۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آج جیسی بری رات میں نے نہیں دیکھی۔“ اور فرمایا: ”کھانا لاؤ۔“ چنانچہ ان کا کھانا پیش کیا گیا تو کہا: «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے۔“ اور کھانے لگے اور مہمانوں نے بھی کھایا۔ (عبدالرحمن کہتے ہیں) مجھے بتایا گیا کہ صبح کے وقت وہ (ابوبکر رضی اللہ عنہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گوش گزار کیا جو کچھ انہوں (ابوبکر رضی اللہ عنہ) نے کیا اور مہمانوں نے کیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان سے بڑھ کر صالح ہو اور سچے بھی (کہ مہمانوں کے اکرام میں ان کی قسم کے مطابق کھانا کھا لیا)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3270]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/مواقیت الصلاة 41 (602)، المناقب 25 (3581)، الأدب 87 (6140)، صحیح مسلم/الأشربة 32 (2057)، (تحفة الأشراف: 9688)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/197، 198) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح ق إلا أن قوله فأخبرت... ليس عند خ وهو مدرج
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6140) صحيح مسلم (2057)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5366
| بروا وحنثت قال بل أنت أبرهم وأخيرهم |
سنن أبي داود |
3270
| بل أنت أبرهم وأصدقهم |
Sunan Abi Dawud Hadith 3270 in Urdu
ضريب بن نقير الجريري ← عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق