🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. باب من نذر نذرا لا يطيقه
باب: جس نے ایسی نذر مانی جس کو پوری کرنے کی وہ طاقت نہیں رکھتا تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3322
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَمْ يُسَمِّهِ، فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ، وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا فِي مَعْصِيَةٍ، فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ، وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَا يُطِيقُهُ، فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ، وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا أَطَاقَهُ، فَلْيَفِ بِهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد:ورَوَى هَذَا الْحَدِيثَ وَكِيعٌ وَغَيْرُهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْهِنْدِ، أَوْقَفُوهُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص غیر نامزد نذر مانے تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے اور جو کسی گناہ کی نذر مانے تو اس کا (بھی) کفارہ وہی ہے جو قسم کا ہے، اور جو کوئی ایسی نذر مانے جسے پوری کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے، اور جو کوئی ایسی نذر مانے جسے وہ پوری کر سکتا ہو تو وہ اسے پوری کرے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وکیع وغیرہ نے اس حدیث کو عبداللہ بن سعید (بن ابوہند) سے ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوفاً روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3322]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الکفارات 17 (2128)، (تحفة الأشراف: 6341) (ضعیف مرفوعاً)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی طلحہ انصاری حافظہ کے کمزور راوی ہیں ان کے بالمقابل وکیع ثقہ ہیں اور انہوں نے اسے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے روایت کیا ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف مرفوعا
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3436)
طلحة بن يحيي حسن الحديث وتابعه ابن جريج عند البيھقي (10/72) وللحديث شواھد

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥كريب بن أبي مسلم القرشي، أبو رشدين
Newكريب بن أبي مسلم القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥بكير بن عبد الله القرشي، أبو يوسف، أبو عبد الله
Newبكير بن عبد الله القرشي ← كريب بن أبي مسلم القرشي
ثقة
👤←👥عبد الله بن سعيد الفزاري، أبو بكر
Newعبد الله بن سعيد الفزاري ← بكير بن عبد الله القرشي
ثقة
👤←👥طلحة بن يحيى الأنصاري
Newطلحة بن يحيى الأنصاري ← عبد الله بن سعيد الفزاري
مقبول
👤←👥محمد بن أبي فديك الديلي، أبو إسماعيل
Newمحمد بن أبي فديك الديلي ← طلحة بن يحيى الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥جعفر بن مسافر التنيسي، أبو صالح
Newجعفر بن مسافر التنيسي ← محمد بن أبي فديك الديلي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3322
من نذر نذرا لم يسمه فكفارته كفارة يمين ومن نذر نذرا في معصية فكفارته كفارة يمين ومن نذر نذرا لا يطيقه فكفارته كفارة يمين ومن نذر نذرا أطاقه فليف به
سنن ابن ماجه
2128
من نذر نذرا ولم يسمه فكفارته كفارة يمين ومن نذر نذرا لم يطقه فكفارته كفارة يمين ومن نذر نذرا أطاقه فليف به
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3322 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3322
فوائد ومسائل:
یہ روایت موقوف ہے۔
اس لئے مرفوع کے مقابلے میں حجت نہیں۔
صحیح مرفوع روایات سے جو ثابت ہے۔
اس کا خلاصہ امام شوکانی نےاس طرح بیان کیا ہے کہ اگرمعین نذر نیکی سے متعلق ہو لیکن اس پر عمل طاقت سے باہر ہو۔
تو اس میں قسم کا کا کفارہ ہے۔
اور اگر وہ انسانی طاقت و وسعت کے اندر ہو تو اس کا پورا کرنا واجب ہے۔
چاہے اس کا تعلق بدن سے ہویا مال سے اور اگر وہ نذر کسی معصیت کی ہو۔
تو اسے پورا نہ کرنا واجب ہے۔
لیکن اس میں کفارے کی ادایئگی ضروری نہیں اگر اس نذر کا تعلق مباح (جائز) امر سے ہو وہ انسانی طاقت سے بالا بھی نہ ہو۔
تو وہ نذ ر بھی منعقد ہوجائے گی۔
اور اس میں کفارے کی ادائیگی بھی لازمی ہوگی۔
جیسے پیدل چلنے والی صحابیہ کو آپ نے پیدل حج پر جانے سے منع فرمایا۔
اور اسے سوار ہونے کا کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
اور اگر وہ کام انسانی طاقت سے بالا ہو تو اس میں کفارہ واجب ہے۔
(نیل الأوطار،  أبواب الأیمان،کفارتھا، باب من نذر نزرا لم یسعه ولایطیقه: 278/8)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3322]