علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
126. باب الجنب يتيمم
باب: جنبی تیمم کر سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 333
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، قَالَ: دَخَلْتُ فِي الْإِسْلَامِ فَأَهَمَّنِي دِينِي، فَأَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ:" إِنِّي اجْتَوَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَبِغَنَمٍ، فَقَالَ لِي: اشْرَبْ مِنْ أَلْبَانِهَا، قَالَ حَمَّادٌ: وَأَشُكُّ فِي أَبْوَالِهَا، هَذَا قَوْلُ حَمَّادٍ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَكُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ، وَمَعِي أَهْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأُصَلِّي بِغَيْرِ طَهُورٍ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِصْفِ النَّهَارِ وَهُوَ فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَهُوَ فِي ظِلِّ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَقُلْتُ: نَعَمْ هَلَكْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: وَمَا أَهْلَكَكَ؟ قُلْتُ: إِنِّي كُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ وَمَعِي أَهْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأُصَلِّي بِغَيْرِ طُهُورٍ، فَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَجَاءَتْ بِهِ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ بِعُسٍّ يَتَخَضْخَضُ مَا هُوَ بِمَلْآنَ فَتَسَتَّرْتُ إِلَى بَعِيرِي فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ طَهُورٌ، وَإِنْ لَمْ تَجِدِ الْمَاءَ إِلَى عَشْرِ سِنِينَ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمِسَّهُ جِلْدَكَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، لَمْ يَذْكُرْ أَبْوَالَهَا. قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا لَيْسَ بِصَحِيحٍ، وَلَيْسَ فِي أَبْوَالِهَا إِلَّا حَدِيثُ أَنَسٍ، تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْبَصْرَةِ.
قبیلہ بنی عامر کے ایک آدمی کہتے ہیں کہ میں اسلام میں داخل ہوا تو مجھے اپنا دین سیکھنے کی فکر لاحق ہوئی لہٰذا میں ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے کہا: مجھے مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ اونٹ اور بکریاں دینے کا حکم دیا اور مجھ سے فرمایا: ”تم ان کا دودھ پیو“، (حماد کا بیان ہے کہ مجھے شک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیشاب بھی پینے کے لیے کہا یا نہیں، یہ حماد کا قول ہے)، پھر ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں پانی سے (اکثر) دور رہا کرتا تھا اور میرے ساتھ میری بیوی بھی تھی، مجھے جنابت لاحق ہوتی تو میں بغیر طہارت کے نماز پڑھ لیتا تھا، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دوپہر کے وقت آیا، آپ صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ مسجد کے سائے میں (بیٹھے) تھے، آپ نے فرمایا: ”ابوذر؟“، میں نے کہا: جی، اللہ کے رسول! میں تو ہلاک و برباد ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس چیز نے تمہیں ہلاک و برباد کیا؟“، میں نے کہا: میں پانی سے دور رہا کرتا تھا اور میرے ساتھ میری بیوی تھی، مجھے جنابت لاحق ہوتی تو میں بغیر طہارت کے نماز پڑھ لیتا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے پانی لانے کا حکم دیا، چنانچہ ایک کالی لونڈی بڑے برتن میں پانی لے کر آئی جو برتن میں ہل رہا تھا، برتن بھرا ہوا نہیں تھا، پھر میں نے اپنے اونٹ کی آڑ کی اور غسل کیا، پھر آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! پاک مٹی پاک کرنے والی ہے، اگرچہ تم دس سال تک پانی نہ پاؤ، لیکن جب تمہیں پانی مل جائے تو اسے اپنی کھال پر بہاؤ (غسل کرو)“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن زید نے ایوب سے روایت کیا ہے اور اس میں انہوں نے پیشاب کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ صحیح نہیں ہے اور پیشاب کا ذکر صرف انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے، جس میں اہل بصرہ منفرد ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 333]
جناب ابوقلابہ، بنی عامر کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں، اس شخص کا بیان ہے کہ میں نے اسلام قبول کر لیا مگر میرے ذہن نے مجھے فکر میں ڈال دیا۔ چنانچہ میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے مدینہ کی آب و ہوا کو اپنے لیے ناموافق پایا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے چند اونٹوں اور بکریوں کا حکم دیا (کہ اسے دے دی جائیں) اور مجھے فرمایا ”ان کا دودھ پیو۔“ حماد کی روایت میں ہے: ”مجھے شک ہے کہ اس میں پیشاب کا بیان ہے یا نہیں۔“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں پانی سے دور ہوتا تھا اور میرے ساتھ میری اہلیہ بھی تھی اور مجھے جنابت پہنچتی تھی تو میں پانی کے بغیر ہی نماز پڑھ لیتا تھا۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، دوپہر کا وقت تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کی معیت میں مسجد کے سائے میں تشریف فرما تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھے دیکھ کر) فرمایا ”ابوذر؟“ میں نے کہا: ”جی، میں تو ہلاک ہو گیا، اے اللہ کے رسول!“ فرمایا ”کس چیز نے ہلاک کر دیا تجھے؟“ میں نے کہا: ”میں پانی سے دور ہوتا تھا، بیوی میرے ساتھ تھی اور مجھے جنابت پہنچتی تھی تو میں بغیر غسل کیے نماز پڑھتا رہا۔“ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے پانی لانے کا حکم فرمایا۔ ایک سیاہ رنگ کی لونڈی ایک بڑا سا پیالہ لے آئی، پانی اس میں چھلک رہا تھا اور وہ پوری طرح بھرا ہوا بھی نہ تھا، تو میں نے اپنے اونٹ کی اوٹ میں ہو کر غسل کیا اور حاضر خدمت ہو گیا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے ابوذر! پاک مٹی پاک کرنے والی ہے اگرچہ تجھے دس سال تک پانی نہ ملے اور جب پانی مل جائے تو اسے اپنی جلد پر ڈالو۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”اس حدیث کو حماد بن زید نے ایوب سے روایت کیا تو اس میں ”اونٹوں کے پیشاب“ کا ذکر نہیں کیا اور یہ صحیح (بھی) نہیں ہے۔ ہاں ان کے پیشاب کے بارے میں صرف سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے (یعنی حدیث «عُرَنِيِّين») جس کی روایت میں اہل بصرہ متفرد ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 333]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12008) (صحیح)» (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ خود اس کی سند میں ایک راوی ”رجل من بنی عامر“ مبہم راوی ہیں اور یہ وہی ”عمرو بن بجدان“ ہیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
رجل من بني عامر ھو عمرو بن بجدان (التقريب: 8522) وھو صحيح الحديث وثقه العجلي المعتدل وابن خزيمة وابن حبان والحاكم والذھبي فحديثه لا ينزل عن درجة الحسن
رجل من بني عامر ھو عمرو بن بجدان (التقريب: 8522) وھو صحيح الحديث وثقه العجلي المعتدل وابن خزيمة وابن حبان والحاكم والذھبي فحديثه لا ينزل عن درجة الحسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو ذر الغفاري، أبو ذر | صحابي | |
👤←👥اسم مبهم اسم مبهم ← أبو ذر الغفاري | 0 | |
👤←👥عبد الله بن زيد الجرمي، أبو كلابة، أبو قلابة عبد الله بن زيد الجرمي ← اسم مبهم | ثقة | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← عبد الله بن زيد الجرمي | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← أيوب السختياني | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة موسى بن إسماعيل التبوذكي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
323
| الصعيد الطيب وضوء المسلم وإن لم يجد الماء عشر سنين |
جامع الترمذي |
124
| الصعيد الطيب طهور المسلم وإن لم يجد الماء عشر سنين |
سنن أبي داود |
333
| الصعيد الطيب طهور وإن لم تجد الماء إلى عشر سنين |
سنن أبي داود |
332
| الصعيد الطيب وضوء المسلم ولو إلى عشر سنين |
بلوغ المرام |
112
| الصعيد وضوء المسلم وإن لم يجد الماء عشر سنين. فإذا وجد الماء فليتق الله وليمسه بشرته |
Sunan Abi Dawud Hadith 333 in Urdu
اسم مبهم ← أبو ذر الغفاري