🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب في الرخصة في ذلك
باب: جانور کے بدلے جانور کو ادھار بیچنے کے جواز کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3357
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ،عَنْ عَمْرِو بْنِ حَرِيشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنّ رسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَهُ أَنْ يُجَهِّزَ جَيْشًا، فَنَفِدَتِ الْإِبِلُ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ فِي قِلَاصِ الصَّدَقَةِ فَكَانَ يَأْخُذُ الْبَعِيرَ بِالْبَعِيرَيْنِ إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک لشکر تیار کرنے کا حکم دیا، تو اونٹ کم پڑ گئے تو آپ نے صدقہ کے جوان اونٹ کے بدلے اونٹ (ادھار) لینے کا حکم دیا تو وہ صدقہ کے اونٹ آنے تک کی شرط پر دو اونٹ کے بدلے ایک اونٹ لیتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3357]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ لشکر کی تیاری کریں مگر اونٹ ختم ہو گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ صدقہ کی اونٹنیاں آنے تک ادھار لے لیں۔ چنانچہ وہ صدقہ کے آنے تک دو دو اونٹوں کے بدلے ایک ایک اونٹ حاصل کر لیا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3357]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 8899)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/171، 216) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے رواة مسلم، ابو سفیان اور عمرو سب مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عمرو بن حريش مجھول الحال كما في التقريب (5010)
وللحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 121


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عمرو بن حريش الزبيدي، أبو محمد
Newعمرو بن حريش الزبيدي ← عبد الله بن عمرو السهمي
مجهول
👤←👥أبو سفيان، أبو سفيان
Newأبو سفيان ← عمرو بن حريش الزبيدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥مسلم بن جبير الجرشي
Newمسلم بن جبير الجرشي ← أبو سفيان
مجهول
👤←👥يزيد بن قيس الأزدي، أبو رجاء
Newيزيد بن قيس الأزدي ← مسلم بن جبير الجرشي
ثقة فقيه وكان يرسل
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← يزيد بن قيس الأزدي
صدوق مدلس
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← ابن إسحاق القرشي
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥حفص بن عمر الضرير، أبو عمر
Newحفص بن عمر الضرير ← حماد بن سلمة البصري
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3357
أمره أن يأخذ في قلاص الصدقة فكان يأخذ البعير بالبعيرين إلى إبل الصدقة
بلوغ المرام
708
امره ان يجهز جيشا فنفدت الإبل فامره ان ياخذ على قلائص الصدقة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3357 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3357
فوائد ومسائل:

ایک طرف سے نقد اوردوسری طرف سے ادھار ہو تو جائز ہے۔
جیسے کہ اس حدیث میں ہے۔
مگر دونوں طرف سے ادھار بالکل ناجائز ہے۔


سابقہ باب کی حدیث سے بھی جانوروں کی جانوروں سے بیع میں کمی بیشی اور ایک طرف کے ادھار کا جواز واضح ہوتا ہے۔
یہ دونوں حدیثیں ان لوگوں کے خلاف حجت ہیں۔
جو ناپ تول کی طرح گننے کی اشیاء کو بھی ربا تعداد کو بھی ربا الفضل کی علت میں شامل کرتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (درهما بدرهمين يا دينار ا بدينارين) فرمایا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ درہم ودینار کا انحصار وزن پر تھا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3357]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 708
سود کا بیان
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک لشکر کی تیاری کا حکم دیا۔ اونٹ ختم ہو گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو صدقہ کے اونٹوں پر (ادھار اونٹ) لینے کا حکم ارشاد فرمایا راوی کہتے ہیں میں ایک اونٹ، صدقہ کے دو اونٹوں کے بدلہ لیتا تھا۔ اسے حاکم اور بیہقی نے روایت کیا ہے اس کے ثقہ ہیں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 708»
تخریج:
«أخرجه الحاكم:2 /57، والبيهقي:5 /288، وأبوداود، البيوع، حديث:3357.»
تشریح:
حیوانات کو بطور قرض خریدنا جائز ہے بشرطیکہ ایک طرف سے نقد اور دوسری طرف سے ادھار ہو‘ جیسے کہ مذکورہ روایت میں ہے‘ مگر دونوں طرف سے ادھار بالکل ناجائزہے۔
امام شافعی ‘ امام مالک رحمہما اللہ اور جمہور اس بیع کو جائز کہتے ہیں جبکہ احناف حیوانات کا قرض لینا جائز نہیں سمجھتے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 708]

Sunan Abi Dawud Hadith 3357 in Urdu