الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب في التمر بالتمر
باب: کھجور کے بدلے کھجور بیچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3360
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَنَّ أَبَا عَيَّاشٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ نَسِيئَةً"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ مَوْلًى لِبَنِي مَخْزُومٍ، عَنْ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
ابوعیاش نے خبر دی کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تر کھجور سوکھی کھجور کے عوض ادھار بیچنے سے منع فرمایا ہے“ ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عمران بن انس نے مولی بنی مخزوم سے انہوں نے سعد رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3360]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 3854) (شاذ)» (اصل حدیث (3358) کے مطابق ہے لیکن «نسیئة» کا لفظ ثابت نہیں ہے، یہ یحییٰ بن ابی کثیر کا اضافہ ہے، جس پر کسی ثقہ نے موافقت نہیں کی ہے) ملاحظہ ہو: ارواء الغلیل (5؍200) «قال أبو داود رواه عمران بن أبي أنس عن مولى لبني مخزوم عن سعد عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه (صحیح) » (اس میں نسیئتہ کا ذکر نہیں ہے)
وضاحت: ۱؎: پہلی حدیث کی رو سے اگر نقد ہو تو بھی منع ہے، لیکن امام ابو حنیفہ نے اسے ادھار پر محمول کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ليس فيه نسيئة
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3360
| نهى رسول الله عن بيع الرطب بالتمر نسيئة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3360 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3360
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمر(کھجور خشک) کو تمر کے بدلے بیچنے کی اجازت دی۔
مگر برابر برابر اور نقد ہو۔
اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا ہے۔
کہ تازہ کھجور (رطب) کے بدلے خشک کھجور(تمر) کی بیع کی جا سکتی ہے۔
تو آپ نے یہ بات سمجھا کر کہ خشک ہونے کے بعد کھجور کے وزن اور مقدار میں کمی ہوتی ہے۔
اس بیع سے مکمل طور پر منع فرما دیا۔
اس حدیث کی رو سے تازہ کھجور کے بدلے خشک کھجور کی بیع برابر برابراور نقد ہوتب بھی جائز نہ ہوگی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمر(کھجور خشک) کو تمر کے بدلے بیچنے کی اجازت دی۔
مگر برابر برابر اور نقد ہو۔
اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا ہے۔
کہ تازہ کھجور (رطب) کے بدلے خشک کھجور(تمر) کی بیع کی جا سکتی ہے۔
تو آپ نے یہ بات سمجھا کر کہ خشک ہونے کے بعد کھجور کے وزن اور مقدار میں کمی ہوتی ہے۔
اس بیع سے مکمل طور پر منع فرما دیا۔
اس حدیث کی رو سے تازہ کھجور کے بدلے خشک کھجور کی بیع برابر برابراور نقد ہوتب بھی جائز نہ ہوگی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3360]
زيد بن عياش الزرقي ← سعد بن أبي وقاص الزهري