علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب في بيع الغرر
باب: دھوکہ کی بیع منع ہے۔
حدیث نمبر: 3378
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ زَادَ وَاشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ، أَنْ يَشْتَمِلَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ يَضَعُ طَرَفَيِ الثَّوْبِ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ، وَيُبْرِزُ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ، وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَقُولَ: إِذَا نَبَذْتُ إِلَيْكَ هَذَا الثَّوْبَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ، وَالْمُلَامَسَةُ أَنْ يَمَسَّهُ بِيَدِهِ، وَلَا يَنْشُرُهُ، وَلَا يُقَلِّبُهُ، فَإِذَا مَسَّهُ وَجَبَ الْبَيْعُ.
اس سند سے بھی بواسطہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ اشتمال صماء یہ ہے کہ ایک کپڑا سارے بدن پر لپیٹ لے، اور کپڑے کے دونوں کنارے اپنے بائیں کندھے پر ڈال لے، اور اس کا داہنا پہلو کھلا رہے، اور منابذہ یہ ہے کہ بائع یہ کہے کہ جب میں یہ کپڑا تیری طرف پھینک دوں تو بیع لازم ہو جائے گی، اور ملامسہ یہ ہے کہ ہاتھ سے چھو لے نہ اسے کھولے اور نہ الٹ پلٹ کر دیکھے تو جب اس نے چھو لیا تو بیع لازم ہو گئی۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3378]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی اور مزید کہا: ” «اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ» یہ ہے کہ انسان ایک کپڑے میں اس طرح سے لپٹ جائے کہ کپڑے کے دونوں کناروں کو بائیں کندھے پر ڈال لے اور اپنی دائیں جانب کو کھلا رکھے۔ اور «بَيْعُ الْمُنَابَذَةِ» یہ ہے کہ یوں کہے: ”جب میں تیری طرف یہ کپڑا پھینک دوں تو بیع لازم ہو گئی۔“ اور «بَيْعُ الْمُلَامَسَةِ» یہ ہے کہ چیز کو صرف اپنا ہاتھ لگا دے، اسے کھول کر یا الٹ پلٹ کر نہ دیکھ سکے اور جب اسے ہاتھ لگا دیا تو بیع لازم ہو گئی۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3378]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4154) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه البيھقي (5/342) واختصره البخاري (2147)
أخرجه البيھقي (5/342) واختصره البخاري (2147)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥عطاء بن يزيد الجندعي، أبو يزيد، أبو محمد عطاء بن يزيد الجندعي ← أبو سعيد الخدري | ثقة | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عطاء بن يزيد الجندعي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر عبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي | ثقة حافظ | |
👤←👥الحسن بن علي الهذلي، أبو علي، أبو محمد الحسن بن علي الهذلي ← عبد الرزاق بن همام الحميري | ثقة حافظ له تصانيف |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3378 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3378
فوائد ومسائل:
1۔
(اشتمال الصماء) کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ انسان سرسے پائوں تک ایک ہی کپڑے میں لپٹ جائے۔
اور کوئی ہاتھ پائوں اس سے باہر نہ ہو۔
اس میں کسی بھی جلدی میں نقصان ہوسکتا ہے۔
ممکن ہے گرجائے اور سنبھل نہ سکے۔
یا کسی کیڑے مکوڑوں وغیرہ سے اپنا دفاع نہ کرسکے وغیرہ۔
2۔
بیع منابذہ کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ جانبین اپنی اپنی چیز ایک دوسرے کیطرف پھینک کر تبادلہ کرلیں اور انہیں دیکھنے بھالنے سوچنے کاحق نہ ہو۔
3۔
بیع ملامسہ میں ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ چیز کو محض ہاتھ لگانے ہی پر بیع کو پختہ سمجھ لیا جائے۔
یا اندھیرے میں سودا ہو اور چھونے سے بیع لازم ہوجائے او ر انسان چیز کو دیکھ بھال نہ سکے۔
الغرض اسلام نے ان امور سے منع فرما دیا ہے جن میں دھوکا اور فریب کا اندیشہ ہوسکتا ہے۔
1۔
(اشتمال الصماء) کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ انسان سرسے پائوں تک ایک ہی کپڑے میں لپٹ جائے۔
اور کوئی ہاتھ پائوں اس سے باہر نہ ہو۔
اس میں کسی بھی جلدی میں نقصان ہوسکتا ہے۔
ممکن ہے گرجائے اور سنبھل نہ سکے۔
یا کسی کیڑے مکوڑوں وغیرہ سے اپنا دفاع نہ کرسکے وغیرہ۔
2۔
بیع منابذہ کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ جانبین اپنی اپنی چیز ایک دوسرے کیطرف پھینک کر تبادلہ کرلیں اور انہیں دیکھنے بھالنے سوچنے کاحق نہ ہو۔
3۔
بیع ملامسہ میں ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ چیز کو محض ہاتھ لگانے ہی پر بیع کو پختہ سمجھ لیا جائے۔
یا اندھیرے میں سودا ہو اور چھونے سے بیع لازم ہوجائے او ر انسان چیز کو دیکھ بھال نہ سکے۔
الغرض اسلام نے ان امور سے منع فرما دیا ہے جن میں دھوکا اور فریب کا اندیشہ ہوسکتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3378]
Sunan Abi Dawud Hadith 3378 in Urdu
عطاء بن يزيد الجندعي ← أبو سعيد الخدري