سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. باب في المزارعة
باب: مزارعت یعنی بٹائی پر زمین دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3392
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ. ح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ كِلَاهُمَا، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَاللَّفْظُ لِلْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ؟ فَقَالَ:" لَا بَأْسَ بِهَا إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يُؤَاجِرُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ، وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ، وَأَشْيَاءَ مِنِ الزَّرْعِ، فَيَهْلَكُ هَذَا، وَيَسْلَمُ هَذَا، وَيَسْلَمُ هَذَا، وَيَهْلَكُ هَذَا، وَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ كِرَاءٌ إِلَّا هَذَا، فَلِذَلِكَ زَجَرَ عَنْهُ، فَأَمَّا شَيْءٌ مَضْمُونٌ مَعْلُومٌ فَلَا بَأْسَ بِهِ". وَحَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ أَتَمُّ، وقَالَ قُتَيْبَةُ: عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنْ رَافِعٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رِوَايَةُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ، نَحْوَهُ.
حنظلہ بن قیس انصاری کہتے ہیں میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سونے چاندی کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں، لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اجرت پر لینے دینے کا معاملہ کرتے تھے پانی کی نالیوں، نالوں کے سروں اور کھیتی کی جگہوں کے بدلے (یعنی ان جگہوں کی پیداوار میں لوں گا) تو کبھی یہ برباد ہو جاتا اور وہ محفوظ رہتا اور کبھی یہ محفوظ رہتا اور وہ برباد ہو جاتا، اس کے سوا کرایہ کا اور کوئی طریقہ رائج نہ تھا اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا، اور رہی محفوظ اور مامون صورت تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ابراہیم کی حدیث مکمل ہے اور قتیبہ نے «عن حنظلة عن رافع» کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید کی روایت جسے انہوں نے حنظلہ سے روایت کیا ہے اسی طرح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3392]
جناب حنظلہ بن قیس انصاری کہتے ہیں کہ ”میں نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ زمین کو سونے چاندی (نقدی) کے عوض کرایہ پر دینا کیسا ہے؟ انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں۔ دراصل لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اس طرح کرتے تھے کہ جو کچھ پانی کے بہاؤ پر اور نالوں کے سروں پر ہوتا اس پر اور کچھ کھیتی پر معاملہ طے کرتے تھے۔ تو پھر ایسے ہوتا کہ یہ ضائع ہو جاتی اور وہ بچ رہتی یا وہ ضائع ہو جاتی اور یہ بچ رہتی، لوگوں کو کرائے پر دینے کی بس یہی ایک صورت رائج تھی۔ جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے سے ڈانٹ کر روک دیا۔ لیکن وہ عوض اور بدل جو معلوم و متعین ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔“ ابراہیم کی حدیث (جو اوپر ذکر ہوئی) اس سے زیادہ کامل ہے۔ اور قتیبہ نے اپنی سند میں «عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنْ رَافِعٍ» ”حنظلہ سے، انہوں نے رافع سے“ کہا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یحییٰ بن سعید نے حنظلہ سے اس کے مثل روایت کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3392]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحرث 7 (2327)، 13 (2333)، 19 (2346)، الشروط 7 (2722)، صحیح مسلم/البیوع 19 (1547)، سنن النسائی/المزارعة 2 (3930، 3931، 3932، 3933)، سنن ابن ماجہ/الرھون 9 (2458)، (تحفة الأشراف: 3553)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/کراء الأرض 1 (1)، مسند احمد (3/463، 4/140، 142) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2346، 2347) صحيح مسلم (1547 بعد ح1548)
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 3392 in Urdu
حنظلة بن قيس الأنصاري ← رافع بن خديج الأنصاري