🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. باب في المزارعة
باب: مزارعت یعنی بٹائی پر زمین دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3393
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ،فَقَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَقَالَ: أَبِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، فَقُلْتُ: أَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَلَا بَأْسَ بِهِ".
حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کو کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرایہ پر (کھیتی کے لیے) دینے سے منع فرمایا ہے، تو میں نے پوچھا: سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ کی بات ہو تو؟ تو انہوں نے کہا: رہی بات سونے اور چاندی سے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3393]
جناب حنظلہ بن قیس انصاری کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ زمین کو کرایہ پر دینا کیسا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا سونے اور چاندی کے بدلے بھی منع ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ سونے اور چاندی کے بدلے میں کوئی حرج نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3393]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 3553) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1547)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥رافع بن خديج الأنصاري، أبو رافع، أبو خديج، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥حنظلة بن قيس الأنصاري
Newحنظلة بن قيس الأنصاري ← رافع بن خديج الأنصاري
ثقة
👤←👥ربيعة الرأي، أبو عثمان، أبو عبد الرحمن
Newربيعة الرأي ← حنظلة بن قيس الأنصاري
ثقة
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← ربيعة الرأي
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
3931
كراء الأرض قلت بالذهب والورق قال لا إنما نهى عنها بما يخرج منها فأما الذهب والفضة فلا بأس
سنن النسائى الصغرى
3937
ليس باستكراء الأرض بالذهب والورق بأس وكان رافع بن خديج يحدث أن رسول الله نهى عن ذلك
صحيح مسلم
3951
كراء الأرض قال فقلت أبالذهب والورق فقال أما بالذهب والورق فلا بأس به
سنن أبي داود
3393
كراء الأرض فقال أبالذهب والورق فقلت أما بالذهب والورق فلا بأس به
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3393 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3393
فوائد ومسائل:
ان سب احادیث سے یہ ثابت ہوا کہ زمیندار (مزارعت میں) ایک ہی کھیت میں اپنے اور مزارع کےلئے الگ الگ حصوں کی پیداوار متعین کرلے تو اسطرح کی مزارعت ناجائز ہے۔
اور یہی وہ فاسد شرط ہے۔
جس کی موجودگی میں بٹائی کو ممنوع قراردیا گیا ہے۔
یہ قباحت نہ ہو بلکہ زمین متعین رقم یعنی ٹھیکے پر دی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3393]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3951
حضرت حنظلہ بن قیس رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں، میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالی عنہ سے زمین کے کرایہ کے بارے میں سوال کیا؟ تو انہوں نے جواب دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کا کرایہ لینے سے منع فرمایا ہے، تو میں نے پوچھا، کیا سونے اور چاندی کے عوض؟ تو انہوں نے کہا، سونے اور چاندی کے عوض دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3951]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت رافع کے نزدیک،
زمین ٹھیکہ کے عوض دینے میں کوئی حرج نہیں ہے،
لیکن مزارعت کی بعض خاص صورتیں ناجائز ہیں،
جیسا کہ اگلی روایت میں آ رہا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3951]

Sunan Abi Dawud Hadith 3393 in Urdu