🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. باب في الرجل يأكل من مال ولده
باب: آدمی کا اپنی اولاد کے مال میں سے کھانا درست ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3530
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَالًا وَوَلَدًا وَإِنَّ وَالِدِي يَحْتَاجُ مَالِي، قَالَ: أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدِكَ، إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ، فَكُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلَادِكُمْ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس مال ہے اور والد بھی ہیں اور میرے والد کو میرے مال کی ضرورت ہے ۱؎ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اور تمہارا مال تمہارے والد ہی کا ہے (یعنی ان کی خبرگیری تجھ پر لازم ہے) تمہاری اولاد تمہاری پاکیزہ کمائی ہے تو تم اپنی اولاد کی کمائی میں سے کھاؤ۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3530]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس مال ہے اور اولاد بھی، اور میرا والد میرے مال کا ضرورت مند رہتا (یعنی لیتا رہتا) ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اور تمہارا مال تمہارے والد کا ہے۔ بے شک تمہاری اولادیں تمہاری بہترین کمائی ہیں، چنانچہ تم اپنی اولادوں کی کمائی سے کھا سکتے ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3530]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8670، 8675)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/التجارات64 (2292)، مسند احمد (2/179) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بعض نسخوں میں «يحتاج» ہے، یعنی: ان کے اخراجات میرے مال کو ختم کر دیں گے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3354)


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥شعيب بن محمد السهمي
Newشعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عمرو بن شعيب القرشي، أبو إبراهيم، أبو عبد الله
Newعمرو بن شعيب القرشي ← شعيب بن محمد السهمي
ثقة
👤←👥حبيب بن زائدة المعلم، أبو محمد
Newحبيب بن زائدة المعلم ← عمرو بن شعيب القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥يزيد بن زريع العيشي، أبو معاوية
Newيزيد بن زريع العيشي ← حبيب بن زائدة المعلم
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن المنهال الضرير، أبو عبد الله، أبو جعفر
Newمحمد بن المنهال الضرير ← يزيد بن زريع العيشي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3530
أنت ومالك لوالدك أولادكم من أطيب كسبكم فكلوا من كسب أولادكم
سنن ابن ماجه
2292
أنت ومالك لأبيك
المعجم الصغير للطبراني
648
أنت ومالك لأبيك
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3530 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3530
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
اسلامی تعلیمات خاندانی اکائی کو ازحد مظبوط بنانے کی داعی ہیں۔
اولاد پر واجب ہے کہ اپنے والدین کی کفالت کریں۔
اوراسے اپنی سعادت جانیں۔
اور والدین کو بھی بغیر کسی اجازت کے اپنی اولاد کی کمائی سے اپنی لازمی ضروریات پوری کرنے کا حق حاصل ہے۔
مگر ظاہر ہے کہ اس معاملے میں کسی جانب سے بھی افراط وتفریط نہیں ہونی چاہیے۔
اس حدیث سے یہ مفہوم کشید کرنا بالکل جائز نہیں۔
کہ بیٹے کا مال کلی طور پرباپ ہی کا ہے۔
بلکہ اس حد تک جائز ہے کہ اپنی لازمی ضروریات لے لے۔
اللہ کی شریعت میں ان دونوں کی ملکیت اورتصرف علحیدہ علیحدہ ہے۔
اسی بنا پر ان میں وراثت چلتی ہے۔
اگر ملکیت اور تصرف میں فرق نہ ہو تو وراثت کے کوئی معنی نہ ہوں گے۔
حدیث کا مقصد بنیادی لازمی ضروریات کا حاصل کرنا ہے۔
نہ کے اولاد کی کمائی کو بے دردی سے خرچ کرکے اسے اجاڑنا۔
واللہ اعلم۔
نیز یہ کمائی اس صورت میں حلال ہوگی جب اولاد کی کمائی کا مصدر حلال اور طیب ہوگا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3530]

Sunan Abi Dawud Hadith 3530 in Urdu