🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب فِي طَلَبِ الْقَضَاءِ
باب: منصب قضاء طلب کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3572
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَخْنَسِيِّ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، وَالْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ جُعِلَ قَاضِيًا بَيْنَ النَّاسِ، فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص لوگوں کے درمیان قاضی بنا دیا گیا (گویا) وہ بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3572]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے لوگوں کا قاضی بنا دیا گیا اسے چھری کے بغیر ہی ذبح کر دیا گیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3572]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الأحکام 1 (2308)، (تحفة الأشراف: 12995)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/365) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3733)
أخرجه ابن ماجه (2308 وسنده حسن)


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، أبو داود
Newعبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت عالم
👤←👥سعيد بن أبي سعيد المقبري، أبو سعيد، أبو سعد
Newسعيد بن أبي سعيد المقبري ← عبد الرحمن بن هرمز الأعرج
ثقة
👤←👥عثمان بن محمد الثقفي
Newعثمان بن محمد الثقفي ← سعيد بن أبي سعيد المقبري
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الله بن جعفر الزهري، أبو محمد
Newعبد الله بن جعفر الزهري ← عثمان بن محمد الثقفي
ثقة
👤←👥بشر بن عمر الزهراني، أبو محمد
Newبشر بن عمر الزهراني ← عبد الله بن جعفر الزهري
ثقة
👤←👥نصر بن علي الأزدي، أبو عمرو
Newنصر بن علي الأزدي ← بشر بن عمر الزهراني
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1325
من ولي القضاء بين الناس فقد ذبح بغير سكين
سنن أبي داود
3572
من جعل قاضيا بين الناس فقد ذبح بغير سكين
سنن أبي داود
3571
من ولي القضاء فقد ذبح بغير سكين
سنن ابن ماجه
2308
من جعل قاضيا بين الناس فقد ذبح بغير سكين
المعجم الصغير للطبراني
1149
من جعل قاضيا فقد ذبح بغير سكين
بلوغ المرام
1189
من ولي القضاء فقد ذبح بغير سكين
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3572 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3572
فوائد ومسائل:
فائدہ: منصب قضا انتہائی ذمہ داری اور آزمائش کا منصب ہے۔
اس کا طالب اور حریص ہونے کی اس کے سوا کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔
کہ اس عہدے کا طلب گار یا اس سے مالی فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔
یا جاہ ومنصب کا خواہش مند ہے۔
یہ دونوں باتیں ایسی ہیں۔
جن کے سبب انسان اس عہدے کے لئے نا اہل ہوجاتا ہے۔
تاہم اگر یہ منصب کسی نہ چاہنے والے کے سپرد کردیا جائے۔
اور وہ حق وانصاف پر ثابت قدم رہے تو اس بڑی عزیمت اور اللہ کے ہاں بڑا اجر ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3572]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2308
قاضیوں کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص لوگوں کا قاضی (فیصلہ کرنے والا) بنایا گیا تو وہ بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2308]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
لوگوں کے جھگڑوں کا فیصلہ کرنا ایک اہم ذمہ داری ہے لیکن یہ بہت نازک ذمہ داری ہے کیونکہ صحیح فیصلوں سے معاشر ے میں امن و سکون قائم رہتا ہے اور غلط فیصلوں کا نتیجہ بدامنی اورفساد کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

(2)
غلط فیصلے سے کسی بے گناہ کی جان بھی جا سکتی ہے اور ایک آدمی کا حق دوسرے کو مل سکتا ہے، اس لیے جج کو اپنی اس ذمے داری کا ا حساس کرتے ہوئے صحیح فیصلے تک پہنچنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرنا ضروری ہے۔

(3)
”بغیر چھری سے ذبح ہونے“ سے اس منصب کی نزاکت اور اس فریضے کی انجام دہی کی مشکل کی طرف اشارہ ہے، اس کے باوجود معاشرے میں اس منصب کا وجود ضروری ہے، اس لیے جس شخص میں صلاحیت موجود ہو، اسے یہ ذمہ داری قبول کرنا اور اسے انصاف کے ساتھ کماحقہ ادا کرنا ضروری ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2308]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1325
قاضی اور قضاء کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو منصب قضاء پر فائز کیا گیا یا جو لوگوں کا قاضی بنایا گیا، (گویا) وہ بغیر چھری کے ذبح کیا گیا“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأحكام/حدیث: 1325]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ایک قول کے مطابق ذبح کا معنوی مفہوم مراد ہے کیونکہ اگراس نے صحیح فیصلہ دیا تودنیا والے اس کے پیچھے پڑجائیں گے اوراگرغلط فیصلہ دیا تو وہ آخرت کے عذاب کا مستحق ہوگا،
اورایک قول یہ ہے کہ یہ تعبیراس لیے اختیارکی گئی ہے کہ اسے خبرداراورمتنبہ کیاجائے کہ اس ہلاکت سے مراد اس کے دین وآخرت کی تباہی وبربادی ہے،
بدن کی نہیں،
یا یہ کہ چھری سے ذبح کرنے میں مذبوح کے لیے راحت رسانی ہوتی ہے اور بغیرچھری کے گلا گھوٹنے یا کسی اورطرح سے زیادہ تکلیف کا باعث ہوتا ہے،
لہٰذا اس کے ذکر سے ڈرانے اورخوف دلانے میں مبالغہ کا بیان ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1325]

Sunan Abi Dawud Hadith 3572 in Urdu