🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب في هدايا العمال
باب: عمال کو ملنے والے تحفوں اور ہدیوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3581
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ عُمَيْرَةَ الْكِنْدِيُّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ عُمِّلَ مِنْكُمْ لَنَا عَلَى عَمَلٍ فَكَتَمَنَا مِنْهُ مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهُ فَهُوَ غُلٌّ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنِ الْأَنْصَارِ، أَسْوَدُ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْبَلْ عَنِّي عَمَلَكَ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟، قَالَ: سَمِعْتُكَ تَقُولُ: كَذَا وَكَذَا، قَالَ: وَأَنَا أَقُولُ ذَلِكَ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَأْتِ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ، فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَهُ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى".
عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تم میں سے جو شخص کسی کام پر ہمارا عامل مقرر کیا گیا، پھر اس نے ہم سے ان (محاصل) میں سے ایک سوئی یا اس سے زیادہ کوئی چیز چھپائی تو وہ چوری ہے، اور وہ قیامت کے دن اس چرائی ہوئی چیز کے ساتھ آئے گا اتنے میں انصار کا ایک کالے رنگ کا آدمی کھڑا ہوا، گویا کہ میں اس کی طرف دیکھ رہا ہوں، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھ سے اپنا کام واپس لے لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے؟ اس شخص نے عرض کیا: آپ کو میں نے ایسے ایسے فرماتے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو یہ کہہ ہی رہا ہوں کہ ہم نے جس شخص کو کسی کام پر عامل مقرر کیا تو (محاصل) تھوڑا ہو یا زیادہ اسے حاضر کرے اور جو اس میں سے اسے دیا جائے اسے لے لے، اور جس سے منع کر دیا جائے اس سے رکا رہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3581]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الإمارة 7 (1833)، (تحفة الأشراف: 9880)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/192) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1833)
مشكوة المصابيح (3752)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عدي بن عميرة الكندي، أبو زرارةصحابي
👤←👥قيس بن أبي حازم البجلي، أبو عبد الله
Newقيس بن أبي حازم البجلي ← عدي بن عميرة الكندي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي خالد البجلي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي خالد البجلي ← قيس بن أبي حازم البجلي
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
4743
من استعملناه منكم على عمل فكتمنا مخيطا فما فوقه كان غلولا يأتي به يوم القيامة من استعملناه منكم على عمل فليجئ بقليله وكثيره فما أوتي منه أخذ وما نهي عنه انتهى
سنن أبي داود
3581
عمل منكم لنا على عمل فكتمنا منه مخيطا فما فوقه فهو غل يأتي به يوم القيامة من استعملناه على عمل فليأت بقليله وكثيره فما أوتي منه أخذه وما نهي عنه انتهى
مسندالحميدي
918
يا أيها الناس من استعملناه منكم على عمل فليأت بقليله وكثيره، فمن كتمنا خيطا أو مخيطا فما سواه، فهو غلول يأتي به يوم القيامة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3581 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3581
فوائد ومسائل:
فائدہ: تمام ملی اور اجتماعی امور کی ذمہ اری انتہائی اہم ہے۔
اس میں محاصل کی ذمہ داری بھی شامل ہے۔
اس میں ذرا سی بھی غفلت اور کوتاہی انسان کے لئے آخرت کا وبال ہے۔
ایسی زمہ داریاں ادا کرنے والے کو اگر کہیں سے ہدایا۔
تحائف یا دیگر منافع حاصل ہو۔
تو وہ اس کے لئے حلال نہیں۔
ایسی تمام اشیاء اسے خزانے میں جمع کرانی ہوں گی۔
نیز حاکم اعلیٰ پر بھی لازم ہے کہ اپنے بندوں کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرتا رہے۔
اور آخرت میں اللہ کے ہاں جواب دہی کی یاد دلاتا ہے۔
اور خود بھی متنبہ اور محتاط رہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3581]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:918
918- سیدنا عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: اے لوگو! تم میں سے جس شخص کو ہم کسی کام کے لیے اہلکار مقرر کریں، تو وہ تھوڑی یا زیادہ جو چیز بھی ہو، اسے لے کر آئے۔ جو شخص دھاگے یا سوئی یا اس کے علاوہ جس چیز کو بھی ہم سے چھپائے گا، تو یہ خیانت ہوگی، جسے ساتھ لے کر وہ قیامت کے دن آئے گا۔‏‏‏‏ انصار سے تعلق رکھنے والا ایک سیاہ فام چھوٹے قد کا ایک شخص کھڑا ہوا، وہ منظر گویا آج بھی میری نگاہ میں ہے۔ اس نے عرض کی: یارسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جس کام کے لیے اہلکار مقر رکیا تھا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:918]
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خیانت بہت بڑا جرم ہے، اور دنیا میں جو انسان امانت میں خیانت کرے گا، قیامت میں اس خیانت کو ساتھ لائے گا، نیز اس حدیث میں سفیروں کے لیے بہت بڑی نصیحت ہے جو پیسے ہڑپ کر جاتے ہیں، لوگوں سے کچھ لیتے ہیں اور مدارس کی انتظامیہ کو کچھ بتاتے ہیں، انسان کو ہمیشہ آخرت کی فکر کرنی چاہیے، اور دنیاوی مقاصد کی غرض سے اپنی آخرت کو تباہ نہیں کرنا چاہیے، آخرت کی رسوائی سب سے بڑی رسوائی ہے، اللہ ہمیں آخرت کی رسوائی سے محفوظ فرمائے، آمین۔
افسوس ہم دیکھ رہے ہیں کہ سرکاری اور غیر سرکاری تمام اداروں میں مالی معاملات میں خیانت کی جا رہی ہے، اللہ تعالیٰ سب کو اپنا ڈر نصیب فرمائے، اور پیسے کے معاملات میں بے ایمانی سے محفوظ رکھے، آمین۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 917]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4743
حضرت عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، ہم نے تم سے جس شخص کو کسی عمل کا عامل مقرر کیا اور اس نے ہم سے ایک سوئی یا اس سے بڑی چھوٹی چیز چھپائی، وہ خیانت ہو گی، وہ اسے قیامت کے دن لے کر حاضر ہو گا۔ تو ایک سیاہ انصاری آدمی آپ کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا، گویا کہ میں اسے دیکھ رہا ہوں، اس نے کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھ سے اپنا عمل واپس لے... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4743]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
حکومت کا ملازم یا کارندہ صرف وہی مشاہرہ یا مراعات لے سکتا ہے،
جو حکومت نے خود دے دی ہیں،
اس سے زائد اگر وہ لیتا ہے،
تو اس کا محاسبہ ہو گا حتیٰ کہ مِخيط،
سوئی یا اس سے کم و بیش ناجائز فائدہ اٹھانا بھی خیانت ہے،
جس کے بارے میں قیامت کے دن جواب دینا ہو گا،
لیکن آج مسلمان حکمرانوں اور ان کے کارندوں یا ملازموں کو اس کی پرواہ نہیں ہے کہ وہ اپنے عہدہ سے کس قدر ناجائز مفادات اٹھا رہے ہیں اور انہیں ایک دن دربار الٰہی میں پیش ہو کر اس کا حساب و کتاب دینا ہو گا،
یہی حال ان لوگوں کا ہے،
جو قومی اور اجتماعی کاموں کے نام پر مال و دولت اکٹھی کرتے ہیں،
پھر اس کو شیر مادر سمجھ کر بغیر ڈکار لیے ہضم کر رہے ہیں،
اللہ تعالیٰ ہم سب کو احساس مسئولیت سے نوازے اور ان حرکات سے بچنے کی توفیق عنایت فرمائے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4743]