علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب القضاء باليمين والشاهد
باب: ایک قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3611
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ رَبِيعَةَ، بِإِسْنَادِ أَبِي مُصْعَبٍ وَمَعْنَاهُ، قَالَ سُلَيْمَانُ: فَلَقِيتُ سُهَيْلًا فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: مَا أَعْرِفُهُ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ رَبِيعَةَ أَخْبَرَنِي بِهِ عَنْكَ، قَالَ: فَإِنْ كَانَ رَبِيعَةُ أَخْبَرَكَ عَنِّي فَحَدِّثْ بِهِ، عَنْ رَبِيعَةَ عَنِّي.
ابومصعب ہی کی سند سے ربیعہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ سلیمان کہتے ہیں میں نے سہیل سے ملاقات کی اور اس حدیث کے متعلق ان سے پوچھا: تو انہوں نے کہا: میں اسے نہیں جانتا تو میں نے ان سے کہا: ربیعہ نے مجھے آپ کے واسطہ سے اس حدیث کی خبر دی ہے تو انہوں نے کہا: اگر ربیعہ نے تمہیں میرے واسطہ سے خبر دی ہے تو تم اسے بواسطہ ربیعہ مجھ سے روایت کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3611]
سلیمان بن بلال نے ربیعہ سے ابومصعب الزہری کی مذکورہ بالا سند سے اسی کے ہم معنی روایت کیا، سلیمان نے کہا: ”میں سہیل سے ملا اور ان سے یہ حدیث دریافت کی تو انہوں نے کہا: ”مجھے معلوم نہیں۔“ میں نے کہا: ”مجھے ربیعہ نے آپ کے واسطے سے روایت کی ہے۔“ تو انہوں نے کہا: ”اگر ربیعہ نے تمہیں بتایا ہے کہ اس نے مجھ سے روایت کی ہے تو اسے بواسطہ ربیعہ مجھ سے روایت کرو۔““ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3611]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 12640) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (3610)
انظر الحديث السابق (3610)
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3611 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3611
فوائد ومسائل:
1۔
مدعی کے پاس جب ایک گواہ ہو تو مالی امور میں اس سے قسم لے کر فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
اور یہ قسم دوسرے گواہ کے قائم مقام ہوگی۔
2۔
محدث جب اپنی کسی روایت کو بھول جائے۔
اور بالجزم اور یقین سے کہے کہ یہ مجھ پر جھوٹ ہے یا میں نے اسے روایت نہیں کیا ہے۔
وغیرہ۔
تو ایسی روایت مردود ہوتی ہے۔
لیکن اگر محض احتمال کا اظہار کرتے ہوئے کہے مجھے ئیہ حدیث یاد نہیں یا مجھے معلوم نہیں اور پہلے دور میں سننے والا ثقہ راوی اس سے روایت کرے۔
تو اس کی روایت مقبول ہوتی ہے۔
مذکورہ اسناد اور واقعہ (من حدث ونسي) جس نے حدیث بیان کی اور (بعد میں) بھول گیا کی مثال ہے اور محدثین کی امانت علمی اور روایت کرنے میں احتیاط اور دقت پسندی کی دلیل ہے۔
1۔
مدعی کے پاس جب ایک گواہ ہو تو مالی امور میں اس سے قسم لے کر فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
اور یہ قسم دوسرے گواہ کے قائم مقام ہوگی۔
2۔
محدث جب اپنی کسی روایت کو بھول جائے۔
اور بالجزم اور یقین سے کہے کہ یہ مجھ پر جھوٹ ہے یا میں نے اسے روایت نہیں کیا ہے۔
وغیرہ۔
تو ایسی روایت مردود ہوتی ہے۔
لیکن اگر محض احتمال کا اظہار کرتے ہوئے کہے مجھے ئیہ حدیث یاد نہیں یا مجھے معلوم نہیں اور پہلے دور میں سننے والا ثقہ راوی اس سے روایت کرے۔
تو اس کی روایت مقبول ہوتی ہے۔
مذکورہ اسناد اور واقعہ (من حدث ونسي) جس نے حدیث بیان کی اور (بعد میں) بھول گیا کی مثال ہے اور محدثین کی امانت علمی اور روایت کرنے میں احتیاط اور دقت پسندی کی دلیل ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3611]
Sunan Abi Dawud Hadith 3611 in Urdu
سليمان بن بلال القرشي ← ربيعة الرأي