سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب الْقَضَاءِ بِالْيَمِينِ وَالشَّاهِدِ
باب: ایک قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3608
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ الْحُبَابِ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ الْمَكَّيُّ، قَالَ عُثْمَانُ، سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَضَى بِيَمِينٍ وَشَاهِدٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حلف اور ایک گواہ پر فیصلہ کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3608]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ایک گواہ کے ساتھ قسم لے کر فیصلہ فرمایا۔“ (مدعی سے قسم لی)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3608]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأقضیة 2 (1712)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 31 (2370)، (تحفة الأشراف: 6299)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/248، 315، 323) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی مدعی کے پاس ایک ہی گواہ تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی سے حلف لیا، اور یہ حلف ایک گواہ کے قائم مقام مان لیا گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1712)
حدیث نمبر: 3609
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ سَلَمَةُ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ عَمْرٌو: فِي الْحُقُوقِ.
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے سلمہ نے اپنی حدیث میں یوں کہا کہ: عمرو نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ حقوق میں تھا (نہ کہ حدود میں)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3609]
جناب عمرو بن دینار رحمہ اللہ نے اپنی سند سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔ سلمہ (سلمہ بن شبیب رحمہ اللہ) کی روایت میں ہے، عمرو نے کہا کہ ”(مالی) حقوق میں۔“ (اس طرح سے فیصلہ کیا)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3609]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6299) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (3609)
انظر الحديث السابق (3609)
حدیث نمبر: 3610
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَبُو مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَزَادَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، الْمُؤَذِّنُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الشَّافِعِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسُهَيْلٍ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ، وَهُوَ عِنْدِي ثِقَةٌ أَنِّي حَدَّثْتُهُ إِيَّاهُ وَلَا أَحْفَظُهُ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: وَقَدْ كَانَ أَصَابَتْ سُهَيْلًا عِلَّةٌ أَذْهَبَتْ بَعْضَ عَقْلِهِ وَنَسِيَ بَعْضَ حَدِيثِهِ فَكَانَ سُهَيْلٌ بَعْدُ يُحَدِّثُهُ، عَنْ رَبِيعَةَ عَنْهُ، عَنْ أَبِيهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہ کے ساتھ قسم پر فیصلہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ربیع بن سلیمان مؤذن نے مجھ سے اس حدیث میں «قال: أخبرني الشافعي عن عبدالعزيز» کا اضافہ کیا عبدالعزیز دراوردی کہتے ہیں: میں نے اسے سہیل سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: مجھے ربیعہ نے خبر دی ہے اور وہ میرے نزدیک ثقہ ہیں کہ میں نے یہ حدیث ان سے بیان کی ہے لیکن مجھے یاد نہیں۔ عبدالعزیز دراوردی کہتے ہیں: سہیل کو ایسا مرض ہو گیا تھا جس سے ان کی عقل میں کچھ فتور آ گیا تھا اور وہ کچھ احادیث بھول گئے تھے، تو سہیل بعد میں اسے «عن ربیعہ عن أبیہ» کے واسطے سے روایت کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3610]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ کے ساتھ قسم لے کر فیصلہ فرمایا (یعنی مدعی سے قسم لی)۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ربیع بن سلیمان مؤذن نے مجھے اس روایت میں مزید کہا کہ ہمیں امام شافعی رحمہ اللہ نے عبدالعزیز سے روایت کیا، عبدالعزیز نے کہا کہ میں نے سہیل بن ابی صالح سے یہ حدیث پوچھی تو انہوں نے کہا کہ ”مجھے (میرے شاگرد) ربیعہ الرائی نے بیان کیا اور وہ میرے نزدیک ثقہ اور معتمد ہے“، کہا کہ ”میں (سہیل) ہی نے ربیعہ کو یہ حدیث بیان کی تھی جو مجھے یاد نہیں۔“ عبدالعزیز کہتے ہیں کہ جناب سہیل بیمار ہو گئے تھے، جس سے ان کی یادداشت زائل ہو گئی اور انہیں اپنی کئی حدیثیں بھول گئی تھیں، چنانچہ سہیل اس کے بعد یوں سند بیان کیا کرتے تھے کہ ”مجھے ربیعہ نے مجھ سے روایت کیا کہ مجھے میرے والد نے بیان کیا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3610]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأحکام 13 (1343)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 31 (2368)، (تحفة الأشراف: 12640) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه ابن ماجه (2368 وسنده صحيح) ورواه الترمذي (1343 وسنده صحيح)
أخرجه ابن ماجه (2368 وسنده صحيح) ورواه الترمذي (1343 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 3611
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ رَبِيعَةَ، بِإِسْنَادِ أَبِي مُصْعَبٍ وَمَعْنَاهُ، قَالَ سُلَيْمَانُ: فَلَقِيتُ سُهَيْلًا فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: مَا أَعْرِفُهُ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ رَبِيعَةَ أَخْبَرَنِي بِهِ عَنْكَ، قَالَ: فَإِنْ كَانَ رَبِيعَةُ أَخْبَرَكَ عَنِّي فَحَدِّثْ بِهِ، عَنْ رَبِيعَةَ عَنِّي.
ابومصعب ہی کی سند سے ربیعہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ سلیمان کہتے ہیں میں نے سہیل سے ملاقات کی اور اس حدیث کے متعلق ان سے پوچھا: تو انہوں نے کہا: میں اسے نہیں جانتا تو میں نے ان سے کہا: ربیعہ نے مجھے آپ کے واسطہ سے اس حدیث کی خبر دی ہے تو انہوں نے کہا: اگر ربیعہ نے تمہیں میرے واسطہ سے خبر دی ہے تو تم اسے بواسطہ ربیعہ مجھ سے روایت کرو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3611]
سلیمان بن بلال نے ربیعہ سے ابومصعب الزہری کی مذکورہ بالا سند سے اسی کے ہم معنی روایت کیا، سلیمان نے کہا: ”میں سہیل سے ملا اور ان سے یہ حدیث دریافت کی تو انہوں نے کہا: ”مجھے معلوم نہیں۔“ میں نے کہا: ”مجھے ربیعہ نے آپ کے واسطے سے روایت کی ہے۔“ تو انہوں نے کہا: ”اگر ربیعہ نے تمہیں بتایا ہے کہ اس نے مجھ سے روایت کی ہے تو اسے بواسطہ ربیعہ مجھ سے روایت کرو۔““ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3611]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 12640) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (3610)
انظر الحديث السابق (3610)
حدیث نمبر: 3612
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ شُعَيْثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْبِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ جَدِّي الزُّبَيْبَ، يَقُولُ:" بَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا إِلَى بَنِي الْعَنْبَرِ، فَأَخَذُوهُمْ بِرُكْبَةَ مِنْ نَاحِيَةِ الطَّائِفِ فَاسْتَاقُوهُمْ، إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَكِبْتُ فَسَبَقْتُهُمْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، أَتَانَا جُنْدُكَ فَأَخَذُونَا، وَقَدْ كُنَّا أَسْلَمْنَا وَخَضْرَمْنَا آذَانَ النَّعَمِ، فَلَمَّا قَدِمَ بَلْعَنْبَرِ، قَالَ لِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ لَكُمْ بَيِّنَةٌ عَلَى أَنَّكُمْ أَسْلَمْتُمْ قَبْلَ أَنْ تُؤْخَذُوا فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ؟، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: مَنْ بَيِّنَتُكَ؟، قُلْتُ: سَمُرَةُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْعَنْبَرِ، وَرَجُلٌ آخَرُ سَمَّاهُ لَهُ، فَشَهِدَ الرَّجُلُ، وَأَبَى سَمُرَةُ أَنْ يَشْهَدَ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ أَبَى أَنْ يَشْهَدَ لَكَ فَتَحْلِفُ مَعَ شَاهِدِكَ الْآخَرِ، قُلْتُ: نَعَمْ، فَاسْتَحْلَفَنِي، فَحَلَفْتُ بِاللَّهِ، لَقَدْ أَسْلَمْنَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، وَخَضْرَمْنَا آذَانَ النَّعَمِ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْهَبُوا، فَقَاسِمُوهُمْ أَنْصَافَ الْأَمْوَالِ، وَلَا تَمَسُّوا ذَرَارِيَّهُمْ، لَوْلَا أَنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ ضَلَالَةَ الْعَمَلَ مَا رَزَيْنَاكُمْ عِقَالًا، قَالَ الزُّبَيْبُ: فَدَعَتْنِي أُمِّي، فَقَالَتْ: هَذَا الرَّجُلُ أَخَذَ زِرْبِيَّتِي، فَانْصَرَفْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فَأَخْبَرْتُه، فَقَالَ لِي: احْبِسْهُ، فَأَخَذْتُ بِتَلْبِيبِهِ، وَقُمْتُ مَعَهُ مَكَانَنَا، ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمَيْنِ، فَقَالَ: مَا تُرِيدُ بِأَسِيرِكَ؟، فَأَرْسَلْتُهُ مِنْ يَدِي، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِلرَّجُلِ: رُدَّ عَلَى هَذَا زِرْبِيَّةَ أُمِّهِ الَّتِي أَخَذْتَ مِنْهَا، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّهَا خَرَجَتْ مِنْ يَدِي، قَالَ: فَاخْتَلَعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفَ الرَّجُلِ فَأَعْطَانِيهِ، وَقَالَ لِلرَّجُلِ: اذْهَبْ فَزِدْهُ آصُعًا مِنْ طَعَامٍ، قَالَ: فَزَادَنِي آصُعًا مِنْ شَعِيرٍ".
زبیب عنبری کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عنبر کی طرف ایک لشکر بھیجا، تو لشکر کے لوگوں نے انہیں مقام رکبہ ۱؎ میں گرفتار کر لیا، اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پکڑ لائے، میں سوار ہو کر ان سے آگے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہا: السلام علیک یا نبی اللہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا لشکر ہمارے پاس آیا اور ہمیں گرفتار کر لیا، حالانکہ ہم مسلمان ہو چکے تھے اور ہم نے جانوروں کے کان کاٹ ڈالے تھے ۲؎، جب بنو عنبر کے لوگ آئے تو مجھ سے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس اس بات کی گواہی ہے کہ تم گرفتار ہونے سے پہلے مسلمان ہو گئے تھے؟“ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون تمہارا گواہ ہے؟“ میں نے کہا: بنی عنبر کا سمرہ نامی شخص اور ایک دوسرا آدمی جس کا انہوں نے نام لیا، تو اس شخص نے گواہی دی اور سمرہ نے گواہی دینے سے انکار کر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سمرہ نے تو گواہی دینے سے انکار کر دیا، تم اپنے ایک گواہ کے ساتھ قسم کھاؤ گے؟“ میں نے کہا: ہاں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قسم دلائی، پس میں نے اللہ کی قسم کھائی کہ بیشک ہم لوگ فلاں اور فلاں روز مسلمان ہو چکے تھے اور جانوروں کے کان چیر دیئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور ان کا آدھا مال تقسیم کر لو اور ان کی اولاد کو ہاتھ نہ لگانا، اگر اللہ تعالیٰ مجاہدین کی کوششیں بیکار ہونا برا نہ جانتا تو ہم تمہارے مال سے ایک رسی بھی نہ لیتے“۔ زبیب کہتے ہیں: مجھے میری والدہ نے بلایا اور کہا: اس شخص نے تو میرا توشک چھین لیا ہے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ سے (صورت حال) بیان کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اسے پکڑ لاؤ“ میں نے اسے اس کے گلے میں کپڑا ڈال کر پکڑا اور اس کے ساتھ اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم دونوں کو کھڑا دیکھ کر فرمایا: ”تم اپنے قیدی سے کیا چاہتے ہو؟“ تو میں نے اسے چھوڑ دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اس آدمی سے فرمایا: ”تو اس کی والدہ کا توشک واپس کرو جسے تم نے اس سے لے لیا ہے“ اس شخص نے کہا: اللہ کے نبی! وہ میرے ہاتھ سے نکل چکا ہے، وہ کہتے ہیں: تو اللہ کے نبی نے اس آدمی کی تلوار لے لی اور مجھے دے دی اور اس آدمی سے کہا: ”جاؤ اور اس تلوار کے علاوہ کھانے کی چیزوں سے چند صاع اور اسے دے دو“ وہ کہتے ہیں: اس نے مجھے (تلوار کے علاوہ) جو کے چند صاع مزید دئیے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3612]
سیدنا زبیب بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک لشکر بنو عنبر کی طرف روانہ کیا۔ انہوں نے طائف کے مضافات میں (مقام رکبہ) رکبہ مقام پر اس قبیلے کو جا پکڑا اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے آئے۔ میں سوار ہوا اور ان سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گیا۔ میں نے کہا: ”اے اللہ کے نبی! آپ پر سلامتی ہو اور آپ پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ آپ کا لشکر ہمارے ہاں پہنچا اور اس نے ہمیں پکڑ لیا حالانکہ ہم نے (پہلے ہی) اسلام قبول کر لیا تھا اور اپنے جانوروں کے کان بھی کاٹ ڈالے تھے۔“ جب بنو عنبر کے لوگ پہنچ گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے کہ تم پکڑے جانے سے پہلے ان ایام میں مسلمان ہو چکے تھے؟“ میں نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے گواہ کون ہیں؟“ میں نے عرض کیا کہ بنو عنبر کا ایک فرد سمرہ اور ایک دوسرے آدمی کا نام لیا۔ چنانچہ اس دوسرے نے شہادت دی لیکن سمرہ نے شہادت دینے سے انکار کیا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے گواہی دینے سے انکار کیا ہے، لہٰذا تجھے اپنے دوسرے گواہ کے ساتھ قسم اٹھانی ہو گی۔“ میں نے کہا: ہاں (اٹھاؤں گا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے قسم لی اور میں نے کہا کہ اللہ کی قسم! ہم لوگ فلاں فلاں روز اسلام قبول کر چکے تھے اور اپنے جانوروں کے کان کاٹ چکے تھے۔ (یہ اسلام اور عدم اسلام کے درمیان فرق کرنے کا ایک انداز تھا۔) تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے مجاہدین سے) فرمایا: ”جاؤ اور ان سے نصف نصف اموال لے لو اور ان کی اولادوں کو ہاتھ مت لگاؤ۔ (انہیں غلام مت بناؤ) اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ تعالیٰ کسی کے عمل (اور اس کی محنت) کو ضائع نہیں فرماتا ہے تو ہم تم سے ایک رسی بھی نہ لیتے۔“ زبیب رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر مجھے میری والدہ نے بلایا اور بتایا کہ اس آدمی نے مجھ سے میری توشک لی ہے۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”اسے روکو۔“ تو میں نے اس کو گریبان سے پکڑ لیا اور اپنی جگہ پر اس کے ساتھ رکا رہا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کھڑے دیکھا تو فرمایا: ”تو اپنے قیدی کے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہے؟“ تو میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اس آدمی سے فرمایا: ”اس کی ماں کی توشک جو تو نے اس سے لی ہے اس کو واپس کر دو۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! وہ مجھ سے ضائع ہو گئی ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلوار اتاری اور مجھے دے دی اور اسے فرمایا: ”جاؤ اور غلے کے چند صاع اور مزید بھی دو۔“ چنانچہ اس نے مجھے کئی صاع جَو بھی دے دیے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3612]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3619) (ضعیف) (اس کے رواة ”عمار“ اور ’’شعیث‘‘ دونوں لین الحدیث ہیں)»
وضاحت: ۱؎: ”ركبة“: طائف کے نواح میں ایک جگہ ہے۔
۲؎: خطابی کہتے ہیں: شاید پہلے زمانہ میں مسلمانوں کے جانوروں کی یہ علامت رہی ہوگی کہ ان کے کان پھٹے ہوں۔
۲؎: خطابی کہتے ہیں: شاید پہلے زمانہ میں مسلمانوں کے جانوروں کی یہ علامت رہی ہوگی کہ ان کے کان پھٹے ہوں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عمار بن شعيث لم أجد من وثقه صراحة فھو : مجهول الحال كما في التحرير (4837)
والحديث مع ذلك حسنه ابن عبد البر!
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128
إسناده ضعيف
عمار بن شعيث لم أجد من وثقه صراحة فھو : مجهول الحال كما في التحرير (4837)
والحديث مع ذلك حسنه ابن عبد البر!
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128