علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب كيف اليمين
باب: قسم کیسے کھائی جائے؟
حدیث نمبر: 3620
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَعْنِي لِرَجُلٍ حَلَّفَهُ:" احْلِفْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، مَا لَهُ عِنْدَكَ شَيْءٌ"، يَعْنِي لِلْمُدَّعِي، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو يَحْيَى اسْمُهُ زِيَادٌ كُوفِيٌّ ثِقَةٌ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے قسم کھلائی تو یوں فرمایا: ”اس اللہ کی قسم کھاؤ جس کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں کہ تیرے پاس اس (یعنی مدعی کی) کی کوئی چیز نہیں ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابویحییٰ کا نام زیاد کوفی ہے اور وہ ثقہ ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3620]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے فرمایا جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھوائی کہ ”تو اللہ کی قسم کھا جس کے سوا کوئی معبود نہیں، کہ تیرے پاس اس مدعی کی کوئی شے نہیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”راوی ابویحییٰ کا نام زیاد ہے جو کوفی ہے اور ثقہ ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3620]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5431)، وقد أخرجہ: مسند احمد 1/288) (ضعیف الإسناد)» (اس کے راوی عطاء اخیر عمر میں مختلط ہو گئے تھے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3774)
انظر الحديث السابق (3275)
مشكوة المصابيح (3774)
انظر الحديث السابق (3275)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3620
| احلف بالله الذي لا إله إلا هو ما له عندك شيء |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3620 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3620
فوائد ومسائل:
فائدہ: اس بیان کی بہت اہمیت ہے۔
اس طریقے سے دوسرے کا حق مارنے کےلئے ہرقسم کے حیلوں کا سدباب ہوجاتا ہے۔
فائدہ: اس بیان کی بہت اہمیت ہے۔
اس طریقے سے دوسرے کا حق مارنے کےلئے ہرقسم کے حیلوں کا سدباب ہوجاتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3620]
Sunan Abi Dawud Hadith 3620 in Urdu
زياد الأعرج ← عبد الله بن العباس القرشي