سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. باب في القضاء
باب: قضاء سے متعلق (مزید) مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 3636
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ يُحَدِّثُ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ" أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ عَضُدٌ مِنْ نَخْلٍ فِي حَائِطِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، قَالَ: وَمَعَ الرَّجُلِ أَهْلُهُ، قَالَ: فَكَانَ سَمُرَةُ يَدْخُلُ إِلَى نَخْلِهِ فَيَتَأَذَّى بِهِ وَيَشُقُّ عَلَيْهِ، فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يَبِيعَهُ، فَأَبَى، فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يُنَاقِلَهُ، فَأَبَى، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَطَلَبَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَهُ، فَأَبَى، فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يُنَاقِلَهُ، فَأَبَى، قَالَ: فَهِبْهُ لَهُ وَلَكَ كَذَا وَكَذَا أَمْرًا رَغَّبَهُ فِيهِ، فَأَبَى، فَقَالَ: أَنْتَ مُضَارٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِيِّ: اذْهَبْ فَاقْلَعْ نَخْلَهُ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری کے باغ میں ان کے کھجور کے کچھ چھوٹے چھوٹے درخت تھے، اور اس شخص کے ساتھ اس کے اہل و عیال بھی رہتے تھے۔ راوی کا بیان ہے کہ سمرہ رضی اللہ عنہ جب اپنے درختوں کے لیے جاتے تو انصاری کو تکلیف ہوتی اور ان پر شاق گزرتا اس لیے انصاری نے ان سے اسے فروخت کر دینے کا مطالبہ کیا، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، پھر اس نے ان سے یہ گزارش کی کہ وہ درخت کا تبادلہ کر لیں وہ اس پر بھی راضی نہیں ہوئے تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے آپ سے اس واقعہ کو بیان کیا، تو آپ نے بھی ان سے فرمایا: ”اسے بیچ ڈالو“ پھر بھی وہ نہ مانے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے درخت کے تبادلہ کی پیش کش کی لیکن وہ اپنی بات پر اڑے رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اسے ہبہ کر دو، اس کے عوض فلاں فلاں چیزیں لے لو“ بہت رغبت دلائی مگر وہ نہ مانے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم «مضار» یعنی ایذا دینے والے ہو“ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری سے فرمایا: ”جاؤ ان کے درختوں کو اکھیڑ ڈالو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3636]
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے ایک انصاری کے باغ میں کھجوروں کے چند درخت تھے اور اس انصاری کے ساتھ اس کے گھر والے بھی رہائش پذیر تھے۔ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ اپنے درختوں کے لیے جاتے تو اس (انصاری) کو بڑی اذیت ہوتی اور اسے اس کا اس طرح آنا جانا برا لگتا تھا۔ انصاری نے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے چاہا کہ یہ درخت اس کو بیچ دے، مگر سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے انکار کیا۔ پھر مطالبہ کیا کہ ان کے بدلے میں دوسرے درخت لے لے، تو بھی سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے انکار کیا۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور یہ واقعہ بتایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس سے فرمایا: ”انہیں اس کو فروخت کر دے۔“ تو اس نے انکار کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے بدلے میں دوسرے درخت لے لے۔“ تو بھی اس نے انکار کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس کو ہبہ کر دے تجھے اتنا اتنا اجر ملے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بہت ترغیب دی مگر اس نے انکار کر دیا۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نقصان دینے والا ہے۔“ اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری سے فرمایا: ”جاؤ اور اس کی کھجوروں کو اکھاڑ ڈالو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3636]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4633) (ضعیف)» (محمد بن علی باقر نے سمرة رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال ابن التركماني في الجوھر النقي : ’’ ذكر ابن حزم أنه منقطع لأن محمد بن علي لا سماع له من سمرة‘‘ (6 / 157)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 129
إسناده ضعيف
قال ابن التركماني في الجوھر النقي : ’’ ذكر ابن حزم أنه منقطع لأن محمد بن علي لا سماع له من سمرة‘‘ (6 / 157)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 129
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3636
| اذهب فاقلع نخله |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3636 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3636
فوائد ومسائل:
فائدہ: یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم اگر کہیں اس قسم کی کوئی صورت ہو تو قاضی کو حق حاصل ہے۔
کہ ازالہ ضرر کےلئے انتہائی شدید اقدام کرے۔
فائدہ: یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم اگر کہیں اس قسم کی کوئی صورت ہو تو قاضی کو حق حاصل ہے۔
کہ ازالہ ضرر کےلئے انتہائی شدید اقدام کرے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3636]
Sunan Abi Dawud Hadith 3636 in Urdu
محمد الباقر ← سمرة بن جندب الفزاري