سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب النهى عن المسكر
باب: نشہ لانے والی چیزوں سے ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3683
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاق، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ، عَنْ دَيْلَمٍ الْحِمْيَرِيِّ، قَالَ:" سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَةٍ نُعَالِجُ فِيهَا عَمَلًا شَدِيدًا، وَإِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًا مِنْ هَذَا الْقَمْحِ نَتَقَوَّى بِهِ عَلَى أَعْمَالِنَا وَعَلَى بَرْدِ بِلَادِنَا، قَالَ: هَلْ يُسْكِرُ؟، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَاجْتَنِبُوهُ، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّ النَّاسَ غَيْرُ تَارِكِيهِ، قَالَ: فَإِنْ لَمْ يَتْرُكُوهُ فَقَاتِلُوهُمْ".
دیلم حمیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ سرد علاقے میں رہتے ہیں اور سخت محنت و مشقت کے کام کرتے ہیں، ہم لوگ اس گیہوں سے شراب بنا کر اس سے اپنے کاموں کے لیے طاقت حاصل کرتے ہیں اور اپنے ملک کی سردیوں سے اپنا بچاؤ کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ نشہ آور ہوتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”ہاں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اس سے بچو“۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: لوگ اسے نہیں چھوڑ سکتے، آپ نے فرمایا: ”اگر وہ اسے نہ چھوڑیں تو تم ان سے لڑائی کرو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3683]
سیدنا دیلم حمیری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم سرد علاقے کے لوگ ہیں، ہمیں پر مشقت کام کرنا پڑتا ہے، ہم اس گندم سے ایک مشروب بناتے ہیں جس سے اپنے کام میں طاقت حاصل کرتے اور سردی کا دفاع کرتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا یہ مشروب نشہ دیتا ہے؟“ میں نے کہا: ”ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس سے بچو۔“ میں نے عرض کیا کہ لوگ تو اسے نہیں چھوڑیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ نہ چھوڑیں تو اس پر ان سے قتال کرو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3683]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «* تخريج:تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3541)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/231، 232) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3651)
أخرجه أحمد (4/232) محمد بن إسحاق تابعه عبد الحميد بن جعفر وغيره
مشكوة المصابيح (3651)
أخرجه أحمد (4/232) محمد بن إسحاق تابعه عبد الحميد بن جعفر وغيره
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3683
| هل يسكر قلت نعم قال فاجتنبوه قال قلت فإن الناس غير تاركيه قال فإن لم يتركوه فقاتلوهم |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3683 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3683
فوائد ومسائل:
فائدہ: کسی حرام چیز کا عادی ہوجانا اس کے حلال ہونے کی وجہ جواز نہیں بن سکتا۔
نیز صریح خلاف اسلام امور پر خلیفہ وقت کو قتال کرکے بھی ان کا ازالہ کرنا لازم ہے۔
فائدہ: کسی حرام چیز کا عادی ہوجانا اس کے حلال ہونے کی وجہ جواز نہیں بن سکتا۔
نیز صریح خلاف اسلام امور پر خلیفہ وقت کو قتال کرکے بھی ان کا ازالہ کرنا لازم ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3683]
Sunan Abi Dawud Hadith 3683 in Urdu
مرثد بن عبد الله اليزني ← ديلم بن أبي ديلم الحميري