سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب في الأوعية
باب: شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3700
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاضٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ:" ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَوْعِيَةَ الدُّبَّاءَ، وَالْحَنْتَمَ، وَالْمُزَفَّتَ، وَالنَّقِيرَ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: إِنَّهُ لَا ظُرُوفَ لَنَا، فَقَالَ: اشْرَبُوا مَا حَلَّ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، حنتم، مزفت، اور نقیر کے برتنوں کا ذکر کیا ۱؎ تو ایک دیہاتی نے عرض کیا: ہمارے پاس تو اور کوئی برتن ہی نہیں رہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا جو حلال ہوا سے پیو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3700]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتنوں کا ذکر فرمایا، یعنی کدو کا برتن (تونبہ)، روغن ملا ہوا سبز برتن، روغن زفت لگا ہوا برتن اور لکڑی کھود کر بنایا جانے والا برتن، تو ایک اعرابی نے کہا: ”(ان کے علاوہ) ہمارے پاس اور کوئی برتن ہی نہیں ہوتے“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(تو پھر صرف) وہی پیو جو حلال ہو۔“ (یعنی محض برتن سے کوئی چیز حلال یا حرام نہیں ہوتی مشروب کے حرام نہ ہونے کی صورت میں ان برتنوں کو استعمال کر سکتے ہو)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3700]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأشربة 8 (5594)، صحیح مسلم/الأشربة 6 (2000)، (تحفة الأشراف: 8895)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/211) (صحیح) (کلاھمابلفظ: ''فأرخص لہ في الجر غیر المزفت'')»
وضاحت: ۱؎: یعنی ان کے استعمال سے منع کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5593) صحيح مسلم (2000)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3700
| ذكر الأوعية الدباء والحنتم والمزفت والنقير فقال أعرابي إنه لا ظروف فقال اشربوا ما حل |
مسندالحميدي |
593
| لما نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الأوعية |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3700 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3700
فوائد ومسائل:
فائدہ: اس مرحلے میں اجازت کی ایک حکمت یہ بھی تھی کہ وہ برتن جو شراب میں استعمال ہونے کی وجہ سے پھلوں کے دوسرے مشروبات میں تخمیر پیدا کرسکتے تھے۔
اگر وہ لوگوں کے پاس موجود بھی تھے تو اب قباحت سے پاک ہوچکے تھے۔
فائدہ: اس مرحلے میں اجازت کی ایک حکمت یہ بھی تھی کہ وہ برتن جو شراب میں استعمال ہونے کی وجہ سے پھلوں کے دوسرے مشروبات میں تخمیر پیدا کرسکتے تھے۔
اگر وہ لوگوں کے پاس موجود بھی تھے تو اب قباحت سے پاک ہوچکے تھے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3700]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:593
593- سیدنا عبد اللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مخصوص برتنوں سے منع کردیا، تو عرض کی گئی:یارسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم )!ہر شخص کے پاس مشکیزہ نہیں ہوتا، تونبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایسا مٹکا استعمال کرنے کی اجازت دی جو مزفت نہ ہو۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:593]
فائدہ:
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث پر باب قائم کیا ہے۔ ممانعت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہرقسم کے برتنوں میں نبیذ بنانے کی اجازت دینا۔ سيدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، حنتم، مزفت اور نفیر میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا اور مشکیروں میں اسے تیار کرنے کی اجازت دی۔ [صحيح مسلم: 5197 (1997)]
پھر بعد میں ان برتنوں میں نبیذ بنانے کی اجازت مل گئی تھی۔ بشرطیکہ وہ نشہ آور نہ ہو۔ [صحيح مسلم: 5209 (977)]
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث پر باب قائم کیا ہے۔ ممانعت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہرقسم کے برتنوں میں نبیذ بنانے کی اجازت دینا۔ سيدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، حنتم، مزفت اور نفیر میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا اور مشکیروں میں اسے تیار کرنے کی اجازت دی۔ [صحيح مسلم: 5197 (1997)]
پھر بعد میں ان برتنوں میں نبیذ بنانے کی اجازت مل گئی تھی۔ بشرطیکہ وہ نشہ آور نہ ہو۔ [صحيح مسلم: 5209 (977)]
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 593]
Sunan Abi Dawud Hadith 3700 in Urdu
عمير بن الأسود العنسي ← عبد الله بن عمرو السهمي