سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. باب في إيكاء الآنية
باب: برتن ڈھک کر رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3735
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنَ سَعِيدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَنّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيهِ وَسِلَّمَ كَانَ" يُسْتَعْذَبُ لَهُ الْمَاءُ مِنْ بُيُوتِ السُّقْيَا"، قِالَ قُتَيْبَةُ: عَيْنٌ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْمَدِينَةِ يَوْمَانِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سقیا کے گھروں سے میٹھا پانی لایا جاتا۔ قتیبہ کہتے ہیں: سقیا ایک چشمہ ہے جس کی مسافت مدینہ سے دو دن کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3735]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 17038)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/100، 108) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4284)
مشكوة المصابيح (4284)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3735
| يستعذب له الماء من بيوت السقيا |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3735 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3735
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
صاف ااور عمدہ پانی انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔
اس کے لئے اہتمام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
جائز حدود میں رہتے ہوئے اللہ کی نعمتوں سے متمتع ہونا زہد کے خلاف نہیں۔
البتہ ان نعمتوں کاشکر ضروری ہے۔
عجمی اور ہندی تصورات کے زیر اثر بعض صوفیاء ان فطری نعمتوں سے گریزاں رہنے کو دین سمجھتے ہیں۔
جبکہ یہ تصوردرست نہیں۔
فائدہ۔
صاف ااور عمدہ پانی انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔
اس کے لئے اہتمام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
جائز حدود میں رہتے ہوئے اللہ کی نعمتوں سے متمتع ہونا زہد کے خلاف نہیں۔
البتہ ان نعمتوں کاشکر ضروری ہے۔
عجمی اور ہندی تصورات کے زیر اثر بعض صوفیاء ان فطری نعمتوں سے گریزاں رہنے کو دین سمجھتے ہیں۔
جبکہ یہ تصوردرست نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3735]
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق