یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب التسمية على الطعام
باب: کھانے سے پہلے ”بسم اللہ“ کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3768
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ صُبْحٍ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخُزَاعِيُّ، عَنْ عَمِّهِ أُمَيَّةَ بْنِ مَخْشِيٍّ وَكَانَ مَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا وَرَجُلٌ يَأْكُلُ، فَلَمْ يُسَمِّ حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْ طَعَامِهِ إِلَّا لُقْمَةٌ، فَلَمَّا رَفَعَهَا إِلَى فِيهِ، قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: مَا زَالَ الشَّيْطَانُ يَأْكُلُ مَعَهُ، فَلَمَّا ذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ اسْتَقَاءَ مَا فِي بَطْنِهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: جَابِرُ بْنُ صُبْحٍ جَدُّ سُلَيْمَانَ بْنَ حَرْبٍ مِنْ قِبَلِ أُمِّهِ.
مثنی بن عبدالرحمٰن خزاعی اپنے چچا امیہ بن مخشی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں (وہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے) وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور ایک شخص کھانا کھا رہا تھا اس نے بسم اللہ نہیں کیا یہاں تک کہ اس کا کھانا صرف ایک لقمہ رہ گیا تھا جب اس نے لقمہ اپنے منہ کی طرف اٹھایا تو کہا: ”اس کی ابتداء اور انتہاء اللہ کے نام سے“ یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا: ”شیطان اس کے ساتھ برابر کھاتا رہا جب اس نے اللہ کا نام لیا تو جو کچھ اس کے پیٹ میں تھا اس نے قے کر دی ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3768]
سیدنا امیہ بن مخشی رضی اللہ عنہ ایک صحابی تھے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے جبکہ ایک آدمی کھانا کھا رہا تھا، اس نے بسم اللہ نہیں پڑھی تھی، حتیٰ کہ جب اس کے کھانے سے ایک لقمہ باقی رہ گیا تو اس نے اسے اپنے منہ کی طرف اٹھاتے ہوئے کہا: «بِسْمِ اللّٰهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ» ”اللہ کے نام سے اس (کھانے) کے شروع میں اور آخر میں بھی۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنسنے لگے اور فرمایا: ”شیطان اس کے ساتھ کھائے جا رہا تھا جب اس نے اللہ کا نام لیا تو جو کچھ اس کے پیٹ میں تھا اس نے وہ سب قے کر کے نکال دیا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جابر بن صبح، سلیمان بن حرب کے نانا ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3768]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 164)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/336) (ضعیف)» (اس کے راوی مثنیٰ مجہول الحال ہیں)
وضاحت: ۱؎: قے کرنے سے مراد یہ ہے کہ جو برکت اس کے شریک ہونے سے جاتی رہی تھی پھر لوٹ آئی، گویا وہ برکت شیطان نے اپنے پیٹ میں رکھ لی تھی۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4203)
المثنٰي بن عبد الرحمن حسن الحديث
مشكوة المصابيح (4203)
المثنٰي بن عبد الرحمن حسن الحديث
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3768
| ما زال الشيطان يأكل معه فلما ذكر اسم الله استقاء ما في بطنه |
Sunan Abi Dawud Hadith 3768 in Urdu
المثنى بن عبد الرحمن الخزاعي ← أمية بن مخشي الخزاعي