پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. باب في أكل الضب
باب: گوہ کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3794
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ،" أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ مَيْمُونَةَ، فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ: أَخْبِرُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يُرِيدُ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ، فَقَالُوا: هُوَ ضَبٌّ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، قَالَ: فَقُلْتُ: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: لَا، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ"، قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ.
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے تو آپ کی خدمت میں بھنا ہوا گوہ لایا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا تو میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں موجود بعض عورتوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس چیز کی خبر کر دو جسے آپ کھانا چاہتے ہیں، تو لوگوں نے عرض کیا: (اللہ کے رسول!) یہ گوہ ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اٹھا لیا۔ خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہ حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں لیکن میری قوم کی سر زمین میں نہیں پایا جاتا اس لیے مجھے اس سے گھن محسوس ہوتی ہے“۔ (یہ سن کر) میں اسے کھینچ کر کھانے لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3794]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ (سیدنا خالد رضی اللہ عنہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے، انہیں بھونا ہوا سانڈا پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا تو بعض خواتین نے جو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھیں، کہا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو کھانے لگے ہیں انہیں اس کے متعلق بتا دو۔“ پس صحابہ نے کہا: ”یہ سانڈا ہے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اٹھا لیا۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا یہ حرام ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، لیکن یہ میرے وطن میں نہیں پائے جاتے اس لیے میں طبعی کراہت کی بنا پر اس سے بچتا ہوں۔“ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”پھر میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور کھا لیا جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3794]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأطعمة 10 (5391)، 14 (5400)، الذبائح 33 (5537)، صحیح مسلم/الذبائح 7 (1946)، سنن النسائی/الصید 26 (4321)، سنن ابن ماجہ/الصید 16 (3241)، (تحفة الأشراف: 3504)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/88، 89)، دی/الصید 8 (2060) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2537) صحيح مسلم (1945)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥خالد بن الوليد المخزومي، أبو سفيان، أبو سليمان | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس عبد الله بن العباس القرشي ← خالد بن الوليد المخزومي | صحابي | |
👤←👥أسعد بن سهل الأنصاري، أبو أمامة أسعد بن سهل الأنصاري ← عبد الله بن العباس القرشي | له رؤية | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← أسعد بن سهل الأنصاري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← محمد بن شهاب الزهري | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥عبد الله بن مسلمة الحارثي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن مسلمة الحارثي ← مالك بن أنس الأصبحي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5537
| لم يكن بأرض قومي فأجدني أعافه |
صحيح البخاري |
5391
| لم يكن بأرض قومي فأجدني أعافه |
صحيح البخاري |
5400
| لا يكون بأرض قومي فأجدني أعافه |
سنن أبي داود |
3794
| لم يكن بأرض قومي فأجدني أعافه |
سنن النسائى الصغرى |
4321
| لم يكن بأرض قومي فأجدني أعافه |
سنن ابن ماجه |
3241
| لم يكن بأرضي فأجدني أعافه |
موطا امام مالك رواية ابن القاسم |
404
| لم يكن بارض قومي فاجدني اعافه |
Sunan Abi Dawud Hadith 3794 in Urdu
عبد الله بن العباس القرشي ← خالد بن الوليد المخزومي