🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. باب ما لم يذكر تحريمه
باب: ایسی چیزوں کا بیان جن کی حرمت مذکور نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3800
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ صَبِيحٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ شَرِيكٍ الْمَكِّيَّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ،عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَأْكُلُونَ أَشْيَاءَ وَيَتْرُكُونَ أَشْيَاءَ تَقَذُّرًا، فَبَعَثَ اللَّهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْزَلَ كِتَابَهُ، وَأَحَلَّ حَلَالَهُ، وَحَرَّمَ حَرَامَهُ، فَمَا أَحَلَّ فَهُوَ حَلَالٌ، وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ، وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ عَفْوٌ، وَتَلَا: قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا سورة الأنعام آية 145 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ بعض چیزوں کو کھاتے تھے اور بعض چیزوں کو ناپسندیدہ سمجھ کر چھوڑ دیتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا، اپنی کتاب نازل کی اور حلال و حرام کو بیان فرمایا، تو جو چیز اللہ نے حلال کر دی وہ حلال ہے اور جو چیز حرام کر دی وہ حرام ہے اور جس سے سکوت فرمایا وہ معاف ہے، پھر ابن عباس نے آیت کریمہ: «قل لا أجد فيما أوحي إلى محرما» آپ کہہ دیجئیے میں اپنی طرف نازل کی گئی وحی میں حرام نہیں پاتا اخیر تک پڑھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3800]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اسلام سے پہلے لوگ کئی چیزوں کو کھاتے اور کئی کو ناپسند کرتے ہوئے چھوڑ دیتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث فرمایا، اپنی کتاب نازل کی، حلال کو حلال اور حرام کو حرام ٹھہرایا۔ تو جس کو اس نے حلال کیا وہ حلال ہے اور جس کو اس نے حرام کیا وہ حرام ہے اور جس کے بارے میں خاموشی اختیار کی وہ معاف ہے اور سورۃ الانعام کی آیت تلاوت فرمائی: ﴿قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ [سورة الأنعام: 145] کہہ دیجیے کہ بذریعہ وحی جو احکام میرے پاس آئے ہیں ان میں میں کسی کھانے والے کے لیے کوئی چیز جسے وہ کھانا چاہے حرام نہیں پاتا الا یہ کہ وہ مردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت، بیشک وہ ناپاک ہے یا وہ فسق ہے کہ (ذبح کرتے وقت) اس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو، پھر جو شخص مجبور ہو جائے، (بشرطیکہ) وہ سرکشی کرنے والا اور حد سے گزرنے والا نہ ہو، تو بیشک آپ کا رب بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3800]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5386) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4146)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥جابر بن زيد الأزدي، أبو الشعثاء
Newجابر بن زيد الأزدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← جابر بن زيد الأزدي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن شريك المكي، أبو عثمان
Newمحمد بن شريك المكي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة
👤←👥الفضل بن دكين الملائي، أبو نعيم
Newالفضل بن دكين الملائي ← محمد بن شريك المكي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن داود المصيصي، أبو جعفر
Newمحمد بن داود المصيصي ← الفضل بن دكين الملائي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3800
ما أحل فهو حلال وما حرم فهو حرام وما سكت عنه فهو عفو وتلا قل لا أجد في ما أوحي إلي محرما
مسندالحميدي
882
نهى عن لحوم الحمر الأهلية
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3800 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3800
فوائد ومسائل:
فائدہ: عادات کے امور میں اصل حلت ہے۔
سوائے اس کے کہ ان کےحرام ہونے کا حکم ہو۔
اور یہ حکم صرف وحی کے ذریعے ہی سے معلوم ہو سکتا ہے۔
نہ کہ خواہش نفس سے لہذا جن چیزوں کے حرام ہونے کی شریعت میں صراحت نہیں ہے۔
علمائے کرام اصول شریعت اور ان چیزوں کے خواص وصفات کی بنا پر ان کا حکم بتاتے ہیں۔
لہذا ہر علاقے کے ثقہ علماء کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
مذید آیت کریمہ کی تفسیر کےلئے تفسیر احسن البیان وغیرہ دیکھی جائے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3800]

Sunan Abi Dawud Hadith 3800 in Urdu