🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. باب في المضطر إلى الميتة
باب: مردار کھانے پر مجبور ہو تو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3816
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَجُلًا نَزَلَ الْحَرَّةَ وَمَعَهُ أَهْلُهُ وَوَلَدُهُ، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ نَاقَةً لِي ضَلَّتْ فَإِنْ وَجَدْتَهَا فَأَمْسِكْهَا، فَوَجَدَهَا فَلَمْ يَجِدْ صَاحِبَهَا، فَمَرِضَتْ، فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: انْحَرْهَا، فَأَبَى، فَنَفَقَتْ، فَقَالَتْ: اسْلُخْهَا حَتَّى نُقَدِّدَ شَحْمَهَا وَلَحْمَهَا وَنَأْكُلَهُ، فَقَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ:" هَلْ عِنْدَكَ غِنًى يُغْنِيكَ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَكُلُوهَا، قَالَ: فَجَاءَ صَاحِبُهَا فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: هَلَّا كُنْتَ نَحَرْتَهَا، قَالَ: اسْتَحْيَيْتُ مِنْكَ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے اہل و عیال کے ساتھ حرہ میں قیام کیا، تو ایک شخص نے اس سے کہا: میری ایک اونٹنی کھو گئی ہے اگر تم اسے پانا تو اپنے پاس رکھ لینا، اس نے اسے پا لیا لیکن اس کے مالک کو نہیں پاس کا پھر وہ بیمار ہو گئی، تو اس کی بیوی نے کہا: اسے ذبح کر ڈالو، لیکن اس نے انکار کیا، پھر اونٹنی مر گئی تو اس کی بیوی نے کہا: اس کی کھال نکال لو تاکہ ہم اس کی چربی اور گوشت سکھا کر کھا سکیں، اس نے کہا: جب تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہیں لیتا ایسا نہیں کر سکتا چنانچہ وہ آپ کے پاس آیا اور اس کے متعلق آپ سے دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے پاس کوئی اور چیز ہے جو تجھے (مردار کھانے سے) بے نیاز کرے اس شخص نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم کھاؤ۔ راوی کہتے ہیں: اتنے میں اس کا مالک آ گیا، تو اس نے اسے سارا واقعہ بتایا تو اس نے کہا: تو نے اسے کیوں نہیں ذبح کر لیا؟ اس نے کہا: میں نے تم سے شرم محسوس کی (اور بغیر اجازت ایسا کرنا میں نے مناسب نہیں سمجھا)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3816]
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے (مدینہ کے قریب) مقام حرہ پر پڑاؤ کیا۔ اس کے ساتھ اس کے بیوی بچے بھی تھے۔ (وہاں کے) ایک آدمی نے اس سے کہا کہ میری اونٹنی گم ہو گئی ہے، اگر تمہیں ملے تو اسے پکڑ لینا۔ چنانچہ وہ اسے مل گئی مگر اس کا مالک نہ ملا۔ پھر وہ اونٹنی بیمار ہو گئی۔ تو اس شخص کی بیوی نے کہا کہ اس کو نحر (ذبح) کر لو۔ مگر وہ نہ مانا اور بالآخر وہ مر گئی۔ تو عورت نے کہا کہ اس کا چمڑا اتار لو کہ ہم اس کی چربی اور گوشت خشک کر لیں اور کھائیں۔ تو آدمی نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لوں۔ چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس کچھ ہے جو تمہیں اس سے بے پروا کر دے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تم اسے کھا سکتے ہو۔ پھر اس اونٹنی کا مالک آ گیا تو اس نے اسے ساری تفصیل بتائی تو اس نے کہا: تم نے اسے نحر (ذبح) کیوں نہ کر لیا؟ اس نے جواب دیا: مجھے تم سے حیاء آئی۔ (کہ کہیں تم یہ نہ سمجھو کہ اس نے حیلے بہانے سے اونٹنی کاٹ کھائی ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3816]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2150)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/87، 88، 89، 97، 104) (حسن الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن سمرة العامري، أبو خالد، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة
Newسماك بن حرب الذهلي ← جابر بن سمرة العامري
صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← سماك بن حرب الذهلي
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3816
عندك غنى يغنيك قال لا قال فكلوها قال فجاء صاحبها فأخبره الخبر فقال هلا كنت نحرتها قال استحييت منك
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3816 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3816
فوائد ومسائل:

جب آدمی از حد لاچار ہوجائے۔
اور کھانے کو کچھ نہ پائے تو اس کےلئے مردارکھانا جائز ہو جاتا ہے۔


یہ فطری اور شرعی حیا تھی کہ انتہائی مجبوری کے عالم میں بھی یہ شخص دوسروں کا مال کھانے کا روادار نہ ہوا۔
اور یہ ایمان کا حصہ ہے۔


یہ شخص ایسا پکا کھرا پابند شریعت مومن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطیع وفرمان بردار تھا کہ اس لاچاری کی کیفیت میں بھی اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی۔
اور اس حالت میں بھی لوگوں سے مانگنے کی ذلت قبول نہیں کی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3816]

Sunan Abi Dawud Hadith 3816 in Urdu