🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب في الأدوية المكروهة
باب: ناجائز اور مکروہ دواؤں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3871
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثيِرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ،" أَنَّ طَبِيبًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضِفْدَعٍ يَجْعَلُهَا فِي دَوَاءٍ؟، فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا".
عبدالرحمٰن بن عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک طبیب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوا میں مینڈک کے استعمال کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مینڈک قتل کرنے سے منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3871]
سیدنا عبدالرحمن بن عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک معالج نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مینڈک کے متعلق دریافت کیا کہ کیا اسے دوا میں ڈال لیا کرے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (طبیب) کو مینڈک کے قتل کرنے سے منع کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3871]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الصید 36 (4360)، (تحفة الأشراف: 9706)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/453، 499)، سنن الدارمی/الأضاحي 26 (2041)، ویأتی ہذا الحدیث فی الأدب (5269) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (4545)
أخرجه النسائي (4360 وسنده صحيح) سعيد ھو ابن خالد بن عبد الله بن قارظ

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الرحمن بن عثمان القرشيصحابي
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← عبد الرحمن بن عثمان القرشي
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥سعيد بن خالد القارظي
Newسعيد بن خالد القارظي ← سعيد بن المسيب القرشي
مقبول
👤←👥محمد بن أبي ذئب العامري، أبو الحارث
Newمحمد بن أبي ذئب العامري ← سعيد بن خالد القارظي
ثقة فقيه فاضل
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← محمد بن أبي ذئب العامري
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥محمد بن كثير العبدي، أبو عبد الله
Newمحمد بن كثير العبدي ← سفيان الثوري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
4360
طبيبا ذكر ضفدعا في دواء عند رسول الله فنهى رسول الله عن قتله
سنن أبي داود
3871
طبيبا سأل النبي عن ضفدع يجعلها في دواء فنهاه النبي عن قتلها
سنن أبي داود
5269
طبيبا سأل النبي عن ضفدع يجعلها في دواء فنهاه النبي عن قتلها
بلوغ المرام
1146
طبيبا سال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن الضفدع بجعلها في دواء،‏‏‏‏ فنهى عن قتلها
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3871 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3871
فوائد ومسائل:
مینڈک کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے تو معلوم ہوا کہ اس کا دوا وغیرہ میں استعمال بھ حرام ہے۔
اگرچہ یہ پانی کا جانور ہے، مگر ہفتوں اور مہینوں پانی کے بغیر بھی زندہ رہتا ہے، اس لیئے مچھلی کے حکم سے خارج ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3871]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1146
(کھانے کے متعلق احادیث)
سیدنا عبدالرحمٰن بن عثمان قرشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک طبیب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مینڈک کے بطور دوا استعمال کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کرنے سے منع فرمایا۔ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1146»
تخریج:
«أخرجه أحمد:3 /499، وصححه الحاكم:4 /411 ووافقه الذهبي، وأبوداود، الطب، باب في الأدوية المكروهة، حديث:3871، والنسائي، الصيد، حديث:4360.»
تشریح:
اس حدیث کی رو سے مینڈک دوا میں استعمال کرنے کی غرض سے مارنا بھی ممنوع ہے۔
اس سے ثابت ہوا کہ یہ حرام ہے۔
اگرچہ یہ پانی کا جانور ہے مگر ہفتوں اور مہینوں پانی کے بغیر بھی زندہ رہتا ہے‘ اس لیے مچھلی کے حکم سے خارج ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1146]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4360
مینڈک کا بیان۔
عبدالرحمٰن بن عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک طبیب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دوا میں مینڈک کا تذکرہ کیا تو آپ نے اسے مار ڈالنے سے روکا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4360]
اردو حاشہ:
(1) مینڈک کے متعلق حکم شریعت یہ ہے کہ وہ حرام ہے۔ بوقت ضرورت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے استعمال کی اجازت نہیں دی۔ آپ کا اجازت نہ دینا ہی اس کی حرمت کی دلیل ہے۔
(2) مینڈک اگرچہ آبی جانور ہے لیکن یہ پانی سے باہر بھی زندہ رہ سکتا ہے بلکہ عرصہ دراز تک باہر پھرتا رہتا ہے، لہٰذا اسے آبی جانوروں والا حکم نہیں دیا جاسکتا، یعنی اسے حلال نہیں کہا جائے گا۔
(3) منع فرما دیا مقصد یہ ہے کہ مینڈک کو دوا کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا کیونکہ قتل کیے بغیر تو اسے دوا میں ڈالنے سے رہے۔ جب قتل حرام ہے تو اس کو بطور دوا استعمال کرنا بھی حرام ہے کیونکہ یہ پلید جانور ہے یا کم از کم قابل نفرت تو ضرور ہے۔ تبھی آپ نے اس کے قتل سے منع فرمایا۔ قتل سے نہی بھی حرمت کی علامت ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4360]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5269
مینڈک مارنے کا بیان۔
عبدالرحمٰن بن عثمان سے روایت ہے کہ ایک طبیب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مینڈک کو دوا میں استعمال کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مارنے سے منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5269]
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہواکہ اس کا کھانا حلال نہیں ہے اور یہ پانی کے ان جانوروں میں شمار نہیں جن کا کھانا حلال ہے۔
(عون المعبود)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5269]

Sunan Abi Dawud Hadith 3871 in Urdu