🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب في الطيرة
باب: بدشگونی اور فال بد لینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3925
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَخَذَ بِيَدِ مَجْذُومٍ فَوَضَعَهَا مَعَهُ فِي الْقَصْعَةِ، وَقَالَ: كُلْ ثِقَةً بِاللَّهِ وَتَوَكُّلًا عَلَيْهِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ پیالہ میں رکھ لیا اور فرمایا: اللہ پر بھروسہ اور اعتماد کر کے کھاؤ۔ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3925]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأطعمة 19 (1817)، سنن ابن ماجہ/ الطب 44 (3542)، (تحفة الأشراف: 3010) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی مفضّل بن فضالة بصری ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1817) ابن ماجه (3542)
مفضل بن فضالة : ضعيف (تق : 6857)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 140

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن المنكدر القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن المنكدر القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥حبيب بن الشهيد الأزدي، أبو محمد، أبو شهيد
Newحبيب بن الشهيد الأزدي ← محمد بن المنكدر القرشي
ثقة ثبت
👤←👥المفضل بن فضالة القرشي، أبو مالك
Newالمفضل بن فضالة القرشي ← حبيب بن الشهيد الأزدي
ضعيف الحديث
👤←👥يونس بن محمد المؤدب، أبو محمد
Newيونس بن محمد المؤدب ← المفضل بن فضالة القرشي
ثقة ثبت
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← يونس بن محمد المؤدب
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1817
كل بسم الله ثقة بالله وتوكلا عليه
سنن أبي داود
3925
كل ثقة بالله وتوكلا عليه
سنن ابن ماجه
3542
كل ثقة بالله وتوكلا على الله
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3925 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3925
فوائد ومسائل:
یہ روایت سندََا ضعیف ہے۔
تاہم صاحبِ ایمان و یقین کے لیئے مباح ہے کہ بیمار آدمی کے ساتھ مل کر کھائےاور ایک مسلمان گھرانے اور معاشرے میں کسی مریض کوغیر مسلموں، خصوصاَ ہندیوں کی طرح، بالکل اچھوت بنا چھوڑنا حرام ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3925]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1817
کوڑھی کے ساتھ کھانے کا بیان۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ پیالے میں داخل کیا، پھر فرمایا: اللہ کا نام لے کر اس پر بھروسہ رکھتے ہوئے اور توکل کرتے ہوئے کھاؤ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1817]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
علماء کا کہنا ہے کہ ایسا آپ نے ان لوگوں کو دکھانے کے لیے کیا جو اپنے ایمان و توکل میں قوی ہیں،
اور ناپسندیدہ امر پر صبر سے کام لیتے ہیں اور اسے قضاء وقدر کے حوالہ کرتے ہیں،
یہی وجہ ہے کہ جو ناپسندیدہ امر پرصبر نہیں کرپاتے اور اپنے بارے میں خوف محسوس کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: (فَرّ مِنَ الْمَجْذُوْمِ كَمَا تَفرُّ مِنَ الْأَسَدِ) چنانچہ ایسے لوگوں سے بچنا اور اجتناب کرنا مستحب ہے،
لیکن واجب نہیں ہے،
اور ان کے ساتھ کھانا پینا بیان جواز کے لیے ہے۔

نوٹ:
(سند میں مفضل بصری ضعیف راوی ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1817]