علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب في العتق على الشرط
باب: شرط لگا کر غلام آزاد کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3932
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ، قَالَ: كُنْتُ مَمْلُوكًا لِأُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ:" أُعْتِقُكَ وَأَشْتَرِطُ عَلَيْكَ أَنْ تَخْدُمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِشْتَ، فَقُلْتُ: وَإِنْ لَمْ تَشْتَرِطِي عَلَيَّ مَا فَارَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِشْتُ، فَأَعْتَقَتْنِي وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ".
سفینہ کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا غلام تھا، وہ مجھ سے بولیں: میں تمہیں آزاد کرتی ہوں، اور شرط لگاتی ہوں کہ تم جب تک زندہ رہو گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتے رہو گے، تو میں نے ان سے کہا: اگر آپ مجھ سے یہ شرط نہ بھی لگاتیں تو بھی میں جیتے جی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے جدا نہ ہوتا، پھر انہوں نے مجھے اسی شرط پر آزاد کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3932]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/العتق 6 (2526)، (تحفة الأشراف: 4481)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/221) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3398)
أخرجه ابن ماجه (2526 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (3398)
أخرجه ابن ماجه (2526 وسنده حسن)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سفينة مولى النبي، أبو البختري، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥سعيد بن جمهان الأسلمي، أبو حفص سعيد بن جمهان الأسلمي ← سفينة مولى النبي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عبد الوارث بن سعيد العنبري، أبو عبيدة عبد الوارث بن سعيد العنبري ← سعيد بن جمهان الأسلمي | ثقة ثبت | |
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن مسدد بن مسرهد الأسدي ← عبد الوارث بن سعيد العنبري | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3932
| أعتقك وأشترط عليك أن تخدم رسول الله ما عشت فقلت وإن لم تشترطي علي ما فارقت رسول الله ما عشت فأعتقتني واشترطت علي |
بلوغ المرام |
1226
| اعتقك واشترط عليك ان تخدم رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ما عشت |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3932 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3932
فوائد ومسائل:
غلام کو قابل عمل عمدہ شرط پر آزاد کرنا جائز ہے۔
اور کیا عمدہ شرط تھی جو ام المومنین سیدہ ام سلمہ نے کی اور حضرت سفینہ قبول کیا۔
غلام کو قابل عمل عمدہ شرط پر آزاد کرنا جائز ہے۔
اور کیا عمدہ شرط تھی جو ام المومنین سیدہ ام سلمہ نے کی اور حضرت سفینہ قبول کیا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3932]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1226
(آزادی کے متعلق احادیث)
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا غلام تھا، انہوں نے مجھے کہا کہ میں تجھے اس شرط پر آزاد کرتی ہوں کہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاحیات خدمت بجا لاتا رہے۔ اسے احمد، ابوداؤد، نسائی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1226»
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا غلام تھا، انہوں نے مجھے کہا کہ میں تجھے اس شرط پر آزاد کرتی ہوں کہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاحیات خدمت بجا لاتا رہے۔ اسے احمد، ابوداؤد، نسائی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1226»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، العتق، باب في العتق علي الشرط، حديث:3932، والنسائي في الكبرٰي:3 /190، حديث:4995، وابن ماجه، العتق، حديث:2526، وأحمد:5 /221، 6 /319.» تشریح:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آزادی کا پروانہ مشروط طور پر بھی دینا جائز ہے اور غلام سے تاحیات کسی کی خدمت کی شرط لگانا بھی درست ہے۔
«أخرجه أبوداود، العتق، باب في العتق علي الشرط، حديث:3932، والنسائي في الكبرٰي:3 /190، حديث:4995، وابن ماجه، العتق، حديث:2526، وأحمد:5 /221، 6 /319.»
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آزادی کا پروانہ مشروط طور پر بھی دینا جائز ہے اور غلام سے تاحیات کسی کی خدمت کی شرط لگانا بھی درست ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1226]
Sunan Abi Dawud Hadith 3932 in Urdu
سعيد بن جمهان الأسلمي ← سفينة مولى النبي