🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب من ذكر السعاية في هذا الحديث
باب: جس شخص کے نزدیک آزاد کرنے والا مفلس ہو تو غلام سے محنت کرائی جائے اس کی دلیل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3939
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ سَعِيدٍ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ لَمْ يَذْكُرِ السِّعَايَةَ، وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، وَمُوسَى بْنُ خَلَفٍ جَمِيعًا، عَنْ قَتَادَةَ، بِإِسْنَادِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، وَمَعْنَاهُ وَذَكَرَا فِيهِ السِّعَايَةَ.
اس سند سے سعید سے بھی اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے روح بن عبادہ نے سعید بن ابی عروبہ سے روایت کیا ہے انہوں نے «سعایہ» کا ذکر نہیں کیا ہے، اور اسے جریر بن حازم اور موسیٰ بن خلف نے قتادہ سے یزید بن زریع کی سند سے اسی کے مفہوم کے ساتھ روایت کیا ہے اور ان دونوں نے اس میں «سعایہ» کا ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3939]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (3934)، (تحفة الأشراف: 12211) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وانظر الحديث السابق (3938)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضرثقة حافظ
👤←👥محمد بن إبراهيم السلمي، أبو عمرو
Newمحمد بن إبراهيم السلمي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← محمد بن إبراهيم السلمي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3939 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3939
فوائد ومسائل:
ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر مالک کے لئے باقی حصہ آزاد کرنا ممکن نہ ہوتو غلام ہی سے محنت کرائی جائے تاکہ وہ اپنی قیمت ادا کر کے آزاد ہو جائے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3939]