🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. باب مَنْ ذَكَرَ السِّعَايَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: جس شخص کے نزدیک آزاد کرنے والا مفلس ہو تو غلام سے محنت کرائی جائے اس کی دلیل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3937
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي الْعَطَّارَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعْتَقَ شَقِيصًا فِي مَمْلُوكِهِ، فَعَلَيْهِ أَنْ يُعْتِقَهُ كُلَّهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ وَإِلَّا اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر اس کے پاس مال ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے مکمل خلاصی دلائے اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اس غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی پھر اور شریکوں کے حصوں کے بقدر اس سے محنت کرائی جائے گی، بغیر اسے مشقت میں ڈالے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِتْق/حدیث: 3937]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے مملوک کا کوئی حصہ آزاد کر دیا ہو تو اس پر لازم ہے کہ اسے پورے کو آزاد کرے، اگر اس کے پاس مال ہو۔ ورنہ غلام سے محنت کرائی جائے جو اس پر زیادہ سخت اور شاق نہ ہو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِتْق/حدیث: 3937]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (3934)، (تحفة الأشراف: 12211) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وانظر الحديث السابق (3934)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3938
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ. ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ وَهَذَا لَفْظُهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ أَوْ شَقِيصًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ، فَخَلَاصُهُ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ قُوِّمَ الْعَبْدُ قِيمَةَ عَدْلٍ ثُمَّ اسْتُسْعِيَ لِصَاحِبِهِ فِي قِيمَتِهِ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: فِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا، فَاسْتُسْعِيَ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ وَهَذَا لَفْظُ عَلِيٍّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو اگر وہ مالدار ہے تو اس پر اس کی مکمل خلاصی لازم ہو گی اور اگر وہ مالدار نہیں ہے تو غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی پھر اس قیمت میں دوسرے شریک کے حصہ کے بقدر اس سے اس طرح محنت کرائی جائے گی کہ وہ مشقت میں نہ پڑے (یہ علی کے الفاظ ہیں)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِتْق/حدیث: 3938]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کسی نے (مشترک) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا ہو تو اس غلام کی آزادی اس (آزاد کرنے والے) کے مال سے ہو گی بشرطیکہ اس کے پاس مال ہو، اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غلام کی متوسط قیمت لگائی جائے، پھر اس سے اپنے مالک کے لیے قیمت کے مطابق محنت کرائی جائے جو زیادہ سخت اور بھاری نہ ہو۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں (نصر بن علی اور علی بن عبداللہ) دونوں کی روایت میں ہے «فَاسْتُسْعِيَ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ» پس اس سے مشقت میں ڈالے بغیر کام لیا جائے جب کہ مذکورہ بالا الفاظ علی بن عبداللہ کے ہیں (کہ ان میں «قُوِّمَ الْعَبْدُ قِيمَةَ عَدْلٍ» غلام کی عادلانہ قیمت لگائی جائے کا بھی بیان ہے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِتْق/حدیث: 3938]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (3934)، (تحفة الأشراف: 12211) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2527) صحيح مسلم (1503)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3939
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ سَعِيدٍ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ لَمْ يَذْكُرِ السِّعَايَةَ، وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، وَمُوسَى بْنُ خَلَفٍ جَمِيعًا، عَنْ قَتَادَةَ، بِإِسْنَادِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، وَمَعْنَاهُ وَذَكَرَا فِيهِ السِّعَايَةَ.
اس سند سے سعید سے بھی اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے روح بن عبادہ نے سعید بن ابی عروبہ سے روایت کیا ہے انہوں نے «سعایہ» کا ذکر نہیں کیا ہے، اور اسے جریر بن حازم اور موسیٰ بن خلف نے قتادہ سے یزید بن زریع کی سند سے اسی کے مفہوم کے ساتھ روایت کیا ہے اور ان دونوں نے اس میں «سعایہ» کا ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِتْق/حدیث: 3939]
محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں یحییٰ اور ابن ابو عدی نے سعید بن ابی عروبہ سے بیان کیا، انہوں نے اپنی سند سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اسے روح بن عبادہ نے بسند سعید بن ابی عروبہ روایت کیا، مگر اس میں محنت کرانے کا ذکر نہیں۔ اسی طرح جریر بن حازم اور موسیٰ بن خلف دونوں نے قتادہ سے بسند یزید بن زریع اس حدیث کے ہم معنی روایت کیا اور ان دونوں نے محنت کرانے کا ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِتْق/حدیث: 3939]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (3934)، (تحفة الأشراف: 12211) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وانظر الحديث السابق (3938)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں