علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 3990
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ يَذْكُرُ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 0 بَلَى قَدْ جَاءَتْكِ آيَاتِي فَكَذَّبْتِ بِهَا وَاسْتَكْبَرْتِ وَكُنْتِ مِنَ الْكَافِرِينَ 0"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا مُرْسَلٌ الرَّبِيعُ لَمْ يُدْرِكْ أُمَّ سَلَمَةَ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت «بلى قد جاءتك آياتي فكذبت بها واستكبرت وكنت من الكافرين» ”ہاں بیشک تیرے پاس میری آیتیں پہنچ چکی تھیں جنہیں تو نے جھٹلایا اور غرور و تکبر کیا اور تو تھا ہی کافروں میں سے“ (سورۃ الزمر: ۵۹) ۱؎ (واحد مونث حاضر کے صیغہ کے ساتھ) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل ہے، ربیع نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو نہیں پایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 3990]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1850) (ضعیف الإسناد)»
وضاحت: وضاحت ۱؎: جمہور کی قرات واحد مذکر حاضر کے صیغہ کے ساتھ ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند منقطع كما بينه المؤلف رحمه اللّٰه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 142
إسناده ضعيف
السند منقطع كما بينه المؤلف رحمه اللّٰه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 142
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3990
| بلى قد جاءتك آياتي فكذبت بها واستكبرت وكنت من الكافرين |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3990 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3990
فوائد ومسائل:
روایت ضعیف الاسناد ہے۔
جمہور کی معروف روایت مذکر کے صیغوں کے ساتھ ہے جن قراء نےمونث کے صیغوں کے ساتھ پڑھا ہے وہ بلحاط لفط (نفس ہے) جو مونث سماعی ہے۔
آیت کریمہ کے معنی ہیں: ہاں کیوں نہیں بلاشبہ تیرے پاس میری آیات آئیں تو تونے انہیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو کافرتھا۔
روایت ضعیف الاسناد ہے۔
جمہور کی معروف روایت مذکر کے صیغوں کے ساتھ ہے جن قراء نےمونث کے صیغوں کے ساتھ پڑھا ہے وہ بلحاط لفط (نفس ہے) جو مونث سماعی ہے۔
آیت کریمہ کے معنی ہیں: ہاں کیوں نہیں بلاشبہ تیرے پاس میری آیات آئیں تو تونے انہیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو کافرتھا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3990]
Sunan Abi Dawud Hadith 3990 in Urdu
الربيع بن أنس البكري ← أم سلمة زوج النبي