علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب في لبس الشهرة
باب: شہرت کے کپڑوں کے پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4029
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عِيسَى، عَنْ شَرِيكٍ، عَنِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنِ الْمُهَاجِرِ الشَّامِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ فِي حَدِيثِ شَرِيكٍ يَرْفَعُهُ، قَالَ:" مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُهْرَةٍ أَلْبَسَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَوْبًا مِثْلَهُ زَادَ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ثُمَّ تُلَهَّبُ فِيهِ النَّارُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جس نے شہرت اور ناموری کا لباس پہنا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اسی طرح کا لباس پہنائے گا۔ شریک کی روایت میں ہے ابن عمر رضی اللہ عنہما اسے مرفوع کرتے ہیں یعنی اپنے قول کے بجائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول قرار دیتے ہیں نیز ابوعوانہ سے یہ اضافہ مروی ہے کہ ”پھر اس کپڑے میں آگ لگا دی جائے گی“۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4029]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/اللباس 24 (3606)، (تحفة الأشراف: 7464)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/92، 139) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (4346)
أخرجه ابن ماجه (3607) وللحديث شواھد
مشكوة المصابيح (4346)
أخرجه ابن ماجه (3607) وللحديث شواھد
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4029
| من لبس ثوب شهرة ألبسه الله يوم القيامة ثوبا مثله ثم تلهب فيه النار |
سنن ابن ماجه |
3606
| من لبس ثوب شهرة ألبسه الله يوم القيامة ثوب مذلة |
سنن ابن ماجه |
3607
| من لبس ثوب شهرة في الدنيا ألبسه الله ثوب مذلة يوم القيامة ثم ألهب فيه نارا |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4029 کے فوائد و مسائل
حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، ابوداود 4029
شہرت کا لباس کیا ہے
شہرت کے لباس سے مراد ایسا کپڑا ہے جو لوگوں کے کپڑوں کے رنگوں سے رنگ میں مختلف ہونے کی وجہ سے لوگوں کے درمیان شہرت پکڑتا ہو، لوگوں کی نظریں اس کی طرف اٹھتی ہوں اور وہ شخص تکبر و تعجب کے ساتھ ان پر فخر و غرور کرتا ہو .... یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ شہرت کا لباس پہننا حرام ہے اور یاد رہے کہ یہ حدیث محض نفیس لباس کے ساتھ مختص نہیں ہے بلکہ یہ چیز تو ایسے شخص سے بھی حاصل ہو سکتی ہے جو فقراء و مساکین کے لباس کے مخالف کپڑا پہنے تا کہ لوگ اسے دیکھیں اور اس کے لباس سے تعجب کریں۔ [نيل الأوطار 596/1]
شہرت کے لباس سے مراد ایسا کپڑا ہے جو لوگوں کے کپڑوں کے رنگوں سے رنگ میں مختلف ہونے کی وجہ سے لوگوں کے درمیان شہرت پکڑتا ہو، لوگوں کی نظریں اس کی طرف اٹھتی ہوں اور وہ شخص تکبر و تعجب کے ساتھ ان پر فخر و غرور کرتا ہو .... یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ شہرت کا لباس پہننا حرام ہے اور یاد رہے کہ یہ حدیث محض نفیس لباس کے ساتھ مختص نہیں ہے بلکہ یہ چیز تو ایسے شخص سے بھی حاصل ہو سکتی ہے جو فقراء و مساکین کے لباس کے مخالف کپڑا پہنے تا کہ لوگ اسے دیکھیں اور اس کے لباس سے تعجب کریں۔ [نيل الأوطار 596/1]
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 354]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3607
جو شخص شہرت اور ناموری کے لیے پہنے اس پر وارد وعید کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے دنیا میں شہرت کا لباس پہنا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے ذلت کا لباس پہنائے گا، پھر اس میں آگ بھڑکائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3607]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے دنیا میں شہرت کا لباس پہنا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے ذلت کا لباس پہنائے گا، پھر اس میں آگ بھڑکائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3607]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
(1)
شہرت کے لباس سے مراد بہت قیمتی لباس بھی ہے کہ لوگ اس کی باتیں کریں اور اس کی ثروت و امارت کی شہرت ہو اور بہت ہلکا اور نکما لباس بھی ہے کہ لوگوں میں اس کے زہد اور بزرگی کی شہرت ہو۔
(2)
ایسا لباس پہننے والے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ اس کی دولت سے مرعوب ہو کر اس کی عزت کریں یا اسے خدا رسیدہ سمجھ کر اس کے آگے عقیدت سے سر جھکائیں۔
اس گناہ کی سزا یہ ہے کہ اسے قیامت کے دن ایسا لباس ملے گا جس کی وجہ سے وہ سب کی نظروں میں ذلیل ہو کر رہ جائے گا۔
جہنم میں جلنے کا عذاب اس کے علاوہ ہے۔
فوائد ومسائل:
(1)
شہرت کے لباس سے مراد بہت قیمتی لباس بھی ہے کہ لوگ اس کی باتیں کریں اور اس کی ثروت و امارت کی شہرت ہو اور بہت ہلکا اور نکما لباس بھی ہے کہ لوگوں میں اس کے زہد اور بزرگی کی شہرت ہو۔
(2)
ایسا لباس پہننے والے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ اس کی دولت سے مرعوب ہو کر اس کی عزت کریں یا اسے خدا رسیدہ سمجھ کر اس کے آگے عقیدت سے سر جھکائیں۔
اس گناہ کی سزا یہ ہے کہ اسے قیامت کے دن ایسا لباس ملے گا جس کی وجہ سے وہ سب کی نظروں میں ذلیل ہو کر رہ جائے گا۔
جہنم میں جلنے کا عذاب اس کے علاوہ ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3607]
Sunan Abi Dawud Hadith 4029 in Urdu
المهاجر بن عمرو النبال ← عبد الله بن عمر العدوي