سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. باب في العبد ينظر إلى شعر مولاته
باب: غلام کا مالکن کے بال دیکھنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 4106
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو جُمَيْعٍ سَالِمُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ:" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى فَاطِمَةَ بِعَبْدٍ كَانَ قَدْ وَهَبَهُ لَهَا، قَالَ: وَعَلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ثَوْبٌ إِذَا قَنَّعَتْ بِهِ رَأْسَهَا لَمْ يَبْلُغْ رِجْلَيْهَا، وَإِذَا غَطَّتْ بِهِ رِجْلَيْهَا لَمْ يَبْلُغْ رَأْسَهَا، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَلْقَى قَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكِ بَأْسٌ إِنَّمَا هُوَ أَبُوكِ وَغُلَامُكِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک غلام لے کر آئے جس کو آپ نے انہیں ہبہ کیا تھا، اس وقت فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک ایسا کپڑا پہنے تھیں کہ جب اس سے سر ڈھانکتیں تو پاؤں کھل جاتا اور جب پاؤں ڈھانکتیں تو سر کھل جاتا، فاطمہ رضی اللہ عنہا جن صورت حال سے دو چار تھیں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا: ”تم پر کوئی مضائقہ نہیں، یہاں صرف تمہارے والد ہیں یا تمہارا غلام ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4106]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے ایک غلام لائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہبہ کیا تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر ایسا کپڑا تھا کہ وہ اگر اسے سر پر لپیٹتی تو ان کے پاؤں تک نہ پہنچتا تھا، اور اگر پاؤں کو چھپاتیں تو سر پر نہ رہتا تھا۔“ پس جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس الجھن کو دیکھا تو فرمایا: ”تمہارے لیے کوئی حرج کی بات نہیں، تمہارے سامنے صرف تمہارے والد ہیں اور تمہارا غلام۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4106]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 399) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3120)
مشكوة المصابيح (3120)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4106
| ليس عليك بأس إنما هو أبوك وغلامك |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4106 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4106
فوائد ومسائل:
غلام سے پردہ واجب نہی بلکہ رخصت ہے۔
غلام سے پردہ واجب نہی بلکہ رخصت ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4106]
Sunan Abi Dawud Hadith 4106 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري