سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب في الخضاب للنساء
باب: عورتوں کے لیے خضاب (مہندی) کے استعمال کا بیان۔
حدیث نمبر: 4165
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَتْنِي غِبْطَةُ بِنْتُ عَمْرٍو الْمُجَاشِعِيَّةُ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي أُمُّ الْحَسَنِ، عَنْ جَدَّتِهَا، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ هَنْدَ بِنْتَ عُتْبَةَ قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ بَايِعْنِي، قَالَ:" لَا أُبَايِعُكِ حَتَّى تُغَيِّرِي كَفَّيْكِ كَأَنَّهُمَا كَفَّا سَبُعٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے نبی! مجھ سے بیعت لے لیجئیے، تو آپ نے فرمایا: ”جب تک تم اپنی دونوں ہتھیلیوں کا رنگ نہیں بدلو گی میں تم سے بیعت نہیں لوں گا، گویا وہ دونوں کسی درندے کی ہتھیلیاں ہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4165]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے اللہ کے نبی! مجھ سے بیعت لے لیجیے!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس وقت تک تمہاری بیعت نہیں لوں گا جب تک کہ تم اپنی ہتھیلیوں کو رنگ نہ لو، یہ تو گویا درندے کی ہتھیلیاں ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4165]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17994) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال الحافظ ابن حجر في غبطة و أم الحسن وجدتھا : ’’ وفي إسناده مجهولات ثلاث‘‘ (التلخيص الحبير 236/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 148
إسناده ضعيف
قال الحافظ ابن حجر في غبطة و أم الحسن وجدتھا : ’’ وفي إسناده مجهولات ثلاث‘‘ (التلخيص الحبير 236/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 148
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4165
| لا أبايعك حتى تغيري كفيك كأنهما كفا سبع |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4165 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4165
فوائد ومسائل:
یہ روایت ضعیف ہے، اس لیئےعورتوں کے لیئے ہاتھوں کا مہندی دے رنگنا ضروری یعنی فرض و واجب نہیں ہے، جیسا کہ اس روایت سے متبادر ہو تا ہے، تاہم مردوں سے امتیاز کے لیئے عورت کا مہندی لگانا دوسرے دلائل سے ثابت ہے، اس لیے اس کے استحباب (پسندیدہ عمل ہونے) میں کوئی شک نہیں، مگر اس کا استعمال اس طرح جائز نہیں، جیسے آج کل ہاتھوں، کلائیوں اور پاؤں پر بھی بیل بوٹے بنائے جاتے ہیں کہ جس نے نا بھی دیکھنا ہو وہ بھی دیکھے۔
یہ صورتحال صریحاََ حرام ہے کہ عورت غیروں کے لیئے خوامخوا کشش کا باعث بنتی ہے۔
یہ روایت ضعیف ہے، اس لیئےعورتوں کے لیئے ہاتھوں کا مہندی دے رنگنا ضروری یعنی فرض و واجب نہیں ہے، جیسا کہ اس روایت سے متبادر ہو تا ہے، تاہم مردوں سے امتیاز کے لیئے عورت کا مہندی لگانا دوسرے دلائل سے ثابت ہے، اس لیے اس کے استحباب (پسندیدہ عمل ہونے) میں کوئی شک نہیں، مگر اس کا استعمال اس طرح جائز نہیں، جیسے آج کل ہاتھوں، کلائیوں اور پاؤں پر بھی بیل بوٹے بنائے جاتے ہیں کہ جس نے نا بھی دیکھنا ہو وہ بھی دیکھے۔
یہ صورتحال صریحاََ حرام ہے کہ عورت غیروں کے لیئے خوامخوا کشش کا باعث بنتی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4165]
Sunan Abi Dawud Hadith 4165 in Urdu
اسم مبهم ← عائشة بنت أبي بكر الصديق