سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب في وقت المغرب
باب: مغرب کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 418
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو أَيُّوبَ غَازِيًا وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ يَوْمَئِذٍ عَلَى مِصْرَ فَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ، فَقَامَ إِلَيْهِ أَبُو أَيُّوبَ، فَقَالَ لَهُ: مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ يَا عُقْبَةُ؟ قَالَ: أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ، أَوْ قَالَ: عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ إِلَى أَنْ تَشْتَبِكَ النُّجُومُ".
مرثد بن عبداللہ کہتے ہیں کہ جب ابوایوب رضی اللہ عنہ ہمارے پاس جہاد کے ارادے سے آئے، ان دنوں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ مصر کے حاکم تھے، تو عقبہ نے مغرب میں دیر کی، ابوایوب نے کھڑے ہو کر ان سے کہا: عقبہ! بھلا یہ کیا نماز ہے؟ عقبہ نے کہا: ہم مشغول رہے، انہوں نے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہیں سنا کہ: ”میری امت ہمیشہ بھلائی یا فطرت پر رہے گی جب تک وہ مغرب میں اتنی تاخیر نہ کرے گی کہ ستارے چمکنے لگ جائیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 418]
جناب یزید بن ابی حبیب، مرثد بن عبداللہ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے۔ وہ سفر جہاد میں تھے اور سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ان دنوں مصر کے حاکم تھے۔ تو (جناب عقبہ نے) نماز مغرب میں کچھ تاخیر کر دی۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: ”اے عقبہ! یہ کیا نماز ہے؟“ کہا کہ ”ہم کام میں تھے۔“ کہا: ”کیا آپ نے نہیں سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت اس وقت تک خیر میں رہے گی“ یا فرمایا: ”فطرت پر رہے گی جب تک کہ مغرب کو مؤخر نہ کرے گی کہ ستارے نکل آئیں۔““ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 418]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 3488)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/147) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (609)
مشكوة المصابيح (609)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
418
| لا تزال أمتي بخير أو قال على الفطرة ما لم يؤخروا المغرب إلى أن تشتبك النجوم |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 418 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 418
418۔ اردو حاشیہ:
➊ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز کے معاملے میں ذرا سی سستی بھی ازحد ناگوار گزرتی تھی اور وہ اس سلسلے میں اپنے رؤساء حکام پر تنقید سے بھی باز نہ آتے تھے اور وہ حکام بھی ایسی تعمیری اور شرعی تنقیدات کو خندہ پیشانی سے قبول کرتے تھے۔
➋ نماز کو بروقت ادا کرنا بالخصوص مغرب کی . . . . . امت کے فطرت اور خیر پر ہونے کی علامت ہے اور اس میں تاخیر اس کے برعکس کی۔
➌ اگر کوئی عذر ہو تو مغرب کا وقت غروب شفق (سرخی) سے پہلے تک باقی رہتا ہے۔
➊ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز کے معاملے میں ذرا سی سستی بھی ازحد ناگوار گزرتی تھی اور وہ اس سلسلے میں اپنے رؤساء حکام پر تنقید سے بھی باز نہ آتے تھے اور وہ حکام بھی ایسی تعمیری اور شرعی تنقیدات کو خندہ پیشانی سے قبول کرتے تھے۔
➋ نماز کو بروقت ادا کرنا بالخصوص مغرب کی . . . . . امت کے فطرت اور خیر پر ہونے کی علامت ہے اور اس میں تاخیر اس کے برعکس کی۔
➌ اگر کوئی عذر ہو تو مغرب کا وقت غروب شفق (سرخی) سے پہلے تک باقی رہتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 418]
Sunan Abi Dawud Hadith 418 in Urdu
مرثد بن عبد الله اليزني ← أبو أيوب الأنصاري