سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب في حلق الرأس
باب: سر منڈانا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 4192
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، وَابْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي يَعْقُوبَ يُحَدِّثُ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمْهَلَ آلَ جَعْفَرٍ ثَلَاثًا أَنْ يَأْتِيَهُمْ ثُمَّ أَتَاهُمْ، فَقَالَ: لَا تَبْكُوا عَلَى أَخِي بَعْدَ الْيَوْمِ، ثُمَّ قَالَ: ادْعُوا لِي بَنِي أَخِي فَجِيءَ بِنَا كَأَنَّا أَفْرُخٌ، فَقَالَ: ادْعُوا لِي الْحَلَّاقَ، فَأَمَرَهُ فَحَلَقَ رُءُوسَنَا".
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر کے گھر والوں کو تین دن کی مہلت دی پھر آپ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”آج کے بعد میرے بھائی پر تم نہ رونا ۱؎“ پھر فرمایا: ”میرے پاس میرے بھتیجوں کو بلاؤ“ تو ہمیں آپ کی خدمت میں لایا گیا، ایسا لگ رہا تھا گویا ہم چوزے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حجام کو بلاؤ“ اور آپ نے اسے حکم دیا تو اس نے ہمارے سر مونڈے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4192]
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے موقع پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آلِ جعفر کو تین دن تک کچھ نہ کہا، پھر ان کے پاس آئے اور فرمایا: ”آج کے بعد میرے بھائی پر مت رونا۔“ پھر فرمایا: ”میرے بھتیجوں کو میرے پاس بلاؤ۔“ پس ہمیں لایا گیا، گویا ہم چڑیا کے بچے تھے۔ (یعنی ہمارے سروں کے بال بکھرے ہوئے تھے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس حجام کو بلاؤ۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا اور اس نے ہمارے سر مونڈ ڈالے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4192]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الزینة من المجتبی 3 (5229)، (تحفة الأشراف: 5216)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/204) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے پتہ چلا کہ چیخ و پکار اور سینہ کوبی کے بغیر میت پر تین دن تک رونا اور اظہار غم کرنا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4463)
أخرجه النسائي (5229 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (4463)
أخرجه النسائي (5229 وسنده صحيح)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4192
| لا تبكوا على أخي بعد اليوم ثم قال ادعوا لي بني أخي فجيء بنا كأنا أفرخ فقال ادعوا لي الحلاق فأمره فحلق رءوسنا |
سنن النسائى الصغرى |
5230
| أمر بحلق رءوسنا |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4192 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4192
فوائد ومسائل:
بچوں کے بال مونڈ دینے میں کوئی حرج نہیں، اسی طرح مردوں کو بھی جائز ہے۔
بچوں کے بال مونڈ دینے میں کوئی حرج نہیں، اسی طرح مردوں کو بھی جائز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4192]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5230
بچے کے سر کے کچھ بال مونڈنے اور کچھ چھوڑنے کی ممانعت کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» (کچھ بال مونڈنے اور کچھ چھوڑ دینے) سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5230]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» (کچھ بال مونڈنے اور کچھ چھوڑ دینے) سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5230]
اردو حاشہ:
قزع سے مراد یہی ہے کہ کچھ بال مونڈ دیے جائیں، کچھ چھوڑ دیے جائیں۔ (تفصیل کےلیے دیکھیں حدیث:5051)
قزع سے مراد یہی ہے کہ کچھ بال مونڈ دیے جائیں، کچھ چھوڑ دیے جائیں۔ (تفصیل کےلیے دیکھیں حدیث:5051)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5230]
Sunan Abi Dawud Hadith 4192 in Urdu
الحسن بن سعد الهاشمي ← عبد الله بن جعفر الهاشمي