سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب في النهى عن السعى، في الفتنة
باب: فتنہ و فساد پھیلانا منع ہے۔
حدیث نمبر: 4256
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ يَكُونُ الْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرًا مِنَ الْجَالِسِ، وَالْجَالِسُ خَيْرًا مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ خَيْرًا مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي خَيْرًا مِنَ السَّاعِي، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ إِبِلٌ فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ، قَالَ: فَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: فَلْيَعْمِدْ إِلَى سَيْفِهِ فَلْيَضْرِبْ بِحَدِّهِ عَلَى حَرَّةٍ، ثُمَّ لِيَنْجُ مَا اسْتَطَاعَ النَّجَاءَ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب ایک ایسا فتنہ رونما ہو گا کہ اس میں لیٹا ہوا شخص بیٹھے ہوئے سے بہتر ہو گا، بیٹھا کھڑے سے بہتر ہو گا، کھڑا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے“ عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت کے لیے آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس اونٹ ہو وہ اپنے اونٹ سے جا ملے، جس کے پاس بکری ہو وہ اپنی بکری سے جا ملے، اور جس کے پاس زمین ہو تو وہ اپنی زمین ہی میں جا بیٹھے“ عرض کیا: جس کے پاس اس میں سے کچھ نہ ہو وہ کیا کرے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس اس میں سے کچھ نہ ہو تو اسے چاہیئے کہ اپنی تلوار لے کر اس کی دھار ایک پتھر سے مار کر کند کر دے (اسے لڑنے کے لائق نہ رہنے دے) پھر چاہیئے کہ جتنی جلد ممکن ہو سکے وہ (فتنوں سے) گلو خلاصی حاصل کرے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4256]
جناب مسلم بن ابی بکرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب فتنہ ہو گا، اس میں لیٹا ہوا آدمی بیٹھنے والے سے بہتر ہو گا، اور بیٹھا ہوا کھڑے ہوئے کی نسبت بہتر ہو گا، اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا۔“ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں میں چلا جائے، اور جس کی بکریاں ہوں وہ اپنی بکریوں میں چلا جائے، اور جس کی کھیتی ہو وہ اپنی زمین میں چلا جائے۔“ کہا: ”جس کے پاس ان میں سے کچھ نہ ہو؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اپنی تلوار لے اور اس کی دھار کو پتھر پر مارے (اسے کند کر دے) اور پھر جہاں تک ہو سکے (فتنے میں شریک ہونے سے) بچنے کی کوشش کرے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4256]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الفتن 3 (2887)، (تحفة الأشراف: 11702)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/39، 48) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2887)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥نفيع بن مسروح الثقفي، أبو بكرة | صحابي | |
👤←👥مسلم بن أبي بكرة الثقفي مسلم بن أبي بكرة الثقفي ← نفيع بن مسروح الثقفي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عثمان بن ميمون العدوي، أبو سلمة عثمان بن ميمون العدوي ← مسلم بن أبي بكرة الثقفي | مقبول | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← عثمان بن ميمون العدوي | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن عثمان بن أبي شيبة العبسي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي | وله أوهام، ثقة حافظ شهير |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4256
| ستكون فتنة يكون المضطجع فيها خيرا من الجالس الجالس خيرا من القائم القائم خيرا من الماشي الماشي خيرا من الساعي ما تأمرني قال من كانت له إبل فليلحق بإبله من كانت له غنم فليلحق بغنمه ومن كانت له أرض فليلحق بأرضه قال فمن لم يكن |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4256 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4256
فوائد ومسائل:
سب سے بڑا فتنہ یہ ہو گا کہ عام لوگ بے دین ہو کر اپنی من مرضی کے طابع ہوتے ہوئے وقتی فوائد حاصل کرنے کے درپے ہونگے اور دوسروں کو بھی اس پر مجبور کریں گے۔
تو ایسے حالات میں سوائے مذکورہ بالا علاج کے کہ انسان آبادیوں سے اور فسادیوں سے دور بھاگ جائے اور کو ئی چارہ نہیں ہو گا۔
سب سے بڑا فتنہ یہ ہو گا کہ عام لوگ بے دین ہو کر اپنی من مرضی کے طابع ہوتے ہوئے وقتی فوائد حاصل کرنے کے درپے ہونگے اور دوسروں کو بھی اس پر مجبور کریں گے۔
تو ایسے حالات میں سوائے مذکورہ بالا علاج کے کہ انسان آبادیوں سے اور فسادیوں سے دور بھاگ جائے اور کو ئی چارہ نہیں ہو گا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4256]
Sunan Abi Dawud Hadith 4256 in Urdu
مسلم بن أبي بكرة الثقفي ← نفيع بن مسروح الثقفي