سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب فِي النَّهْىِ عَنِ السَّعْىِ، فِي الْفِتْنَةِ
باب: فتنہ و فساد پھیلانا منع ہے۔
حدیث نمبر: 4263
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: ايْمُ اللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنَ إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنِ إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنِ جُنِّبَ الْفِتَنَ وَلَمَنِ ابْتُلِيَ، فَصَبَرَ فَوَاهًا".
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قسم اللہ کی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”نیک بخت وہ ہے جو فتنوں سے دور رہا، نیک بخت وہ ہے جو فتنوں سے دور رہا، اور جو اس میں پھنس گیا پھر اس نے صبر کیا تو پھر اس کا کیا کہنا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4263]
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”بلاشبہ انتہائی خوش بخت ہے وہ انسان جو فتنوں سے بچا رہا، بڑا خوش بخت ہے وہ انسان جو فتنوں سے بچا رہا، بڑا خوش بخت ہے وہ انسان جو فتنوں سے بچا رہا، اور جو ان میں مبتلا کیا گیا پھر اس نے صبر کیا، تو اس کا کیا کہنا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4263]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11542) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (5405)
مشكوة المصابيح (5405)
تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
15707
الجامع الكامل حدیث نمبر :
15707
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4263
| السعيد لمن جنب الفتن ولمن ابتلي فصبر فواها |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4263 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4263
فوائد ومسائل:
ان تمام احادیث کا خلاصہ یہی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان آپس میں اختلاف اور جھگڑا ہو اور کسی ایک فریق کا حق پر نہ ہونا واضح نہ ہو تو پھر ان میں حصہ لینے سے بچنا بہتر ہوگا حتی کہ قتل ہو جانا گوارا کر لینا کسی کو قتل کرنے سے بہتر ہوگا۔
ان تمام احادیث کا خلاصہ یہی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان آپس میں اختلاف اور جھگڑا ہو اور کسی ایک فریق کا حق پر نہ ہونا واضح نہ ہو تو پھر ان میں حصہ لینے سے بچنا بہتر ہوگا حتی کہ قتل ہو جانا گوارا کر لینا کسی کو قتل کرنے سے بہتر ہوگا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4263]
Sunan Abi Dawud Hadith 4263 in Urdu
جبير بن نفير الحضرمي ← المقداد بن الأسود الكندي