علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب في من نام عن الصلاة أو نسيها
باب: جو نماز کے وقت سو جائے یا اسے بھول جائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 439
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، فِي هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حَيْثُ شَاءَ، وَرَدَّهَا حَيْثُ شَاءَ، قُمْ فَأَذِّنْ بِالصَّلَاةِ. فَقَامُوا فَتَطَهَّرُوا حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ، قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث میں یوں مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تمہاری روحوں کو جب تک چاہا روکے رکھا، اور جب چاہا انہیں چھوڑ دیا، تم اٹھو اور نماز کے لیے اذان دو“، چنانچہ سب اٹھے اور سب نے وضو کیا یہاں تک کہ جب سورج چڑھ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 439]
جناب ابن ابی قتادہ (اپنے والد) سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں، انہوں نے اس خبر میں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے جب چاہا تمہاری روحیں قبض کر لیں اور جب چاہا لوٹا دیں، لہٰذا اٹھو اور نماز کے لیے اذان کہو۔“ چنانچہ وہ اٹھے اور وضو کیا حتیٰ کہ جب سورج بلند ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 439]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/مواقیت الصلاة 35 (595)، سنن النسائی/الإمامة 47 (847)، (تحفة الأشراف: 12096) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7471)
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 439 in Urdu
عبد الله بن أبي قتادة الأنصاري ← الحارث بن ربعي السلمي