علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب في من نام عن الصلاة أو نسيها
باب: جو نماز کے وقت سو جائے یا اسے بھول جائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 440
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ حِينَ ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى بِهِمْ.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں، اس میں ہے: ”تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا جس وقت سورج چڑھ گیا پھر انہیں نماز پڑھائی“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 440]
جناب عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ہم معنی روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا جبکہ سورج اونچا آ گیا، پھر انہیں نماز پڑھائی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 440]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 12096) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 440 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 440
440۔ اردو حاشیہ:
➊ نیند میں روح قبض کر لی جاتی ہے مگر جسم کے ساتھ اس کا تعلق قائم رہتا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: «اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ» [الزمر: 42]
”اللہ تعالیٰ لوگوں کے مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض کر لیتا ہے اور جو نہیں مرے (ان کی روحیں) سوتے میں (قبض کر لیتا ہے) پھر جن پر موت کا حکم کر چکتا ہے، ان کو روک لینا ہے اور باقی روحوں کو ایک وقت مقرر تک کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ جو لوگ فکر کرتے ہیں ان کے لیے اس میں نشانیاں ہیں۔“
➋ جب جا گنے والا ایسے تنگ وقت میں جاگا کہ سورج طلوع یا غرو ب ہوا چاہتا ہے، تو اس حالت میں اگر وہ طلوع یا غروب ہونے کا انتظار کر لے، تو جائز ہے۔
➊ نیند میں روح قبض کر لی جاتی ہے مگر جسم کے ساتھ اس کا تعلق قائم رہتا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: «اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ» [الزمر: 42]
”اللہ تعالیٰ لوگوں کے مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض کر لیتا ہے اور جو نہیں مرے (ان کی روحیں) سوتے میں (قبض کر لیتا ہے) پھر جن پر موت کا حکم کر چکتا ہے، ان کو روک لینا ہے اور باقی روحوں کو ایک وقت مقرر تک کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ جو لوگ فکر کرتے ہیں ان کے لیے اس میں نشانیاں ہیں۔“
➋ جب جا گنے والا ایسے تنگ وقت میں جاگا کہ سورج طلوع یا غرو ب ہوا چاہتا ہے، تو اس حالت میں اگر وہ طلوع یا غروب ہونے کا انتظار کر لے، تو جائز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 440]
Sunan Abi Dawud Hadith 440 in Urdu
عبد الله بن أبي قتادة الأنصاري ← الحارث بن ربعي السلمي