🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب في الغلام يصيب الحد
باب: نابالغ لڑکا حد کا مرتکب ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4404
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي عَطِيَّةُ الْقُرَظِيُّ، قَالَ:" كُنْتُ مِنْ سَبْيِ بَنِي قُرَيْظَةَ فَكَانُوا يَنْظُرُونَ فَمَنْ أَنْبَتَ الشَّعْرَ قُتِلَ وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ لَمْ يُقْتَلْ فَكُنْتُ فِيمَنْ لَمْ يُنْبِتْ".
عطیہ قرظی کہتے ہیں کہ بنی قریظہ کے قیدیوں میں میں بھی تھا تو لوگ دیکھتے تھے جس کے زیر ناف کے بال اگے ہوتے انہیں قتل کر دیتے تھے اور جن کے بال نہیں اگے تھے انہیں قتل نہیں کرتے، تو میں ان لوگوں میں سے تھا جن کے بال نہیں اگے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4404]
سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بنو قریظہ کے قیدیوں میں سے تھا، چنانچہ مسلمانوں نے دیکھنا شروع کیا، یعنی جس جس کے (زیر ناف) بال اگ آئے تھے اسے قتل کر دیا گیا اور جس کے نہیں اگے تھے اسے قتل نہ کیا گیا، چنانچہ میں ان میں سے تھا جن کے بال نہیں اگے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4404]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/السیر 29 (1584)، سنن النسائی/الطلاق 20 (3460)، قطع السارق 14 (4984)، سنن ابن ماجہ/الحدود 4 (2542)، (تحفة الأشراف: 9904)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/310، 383، 5/312، 383) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3974)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عطية القرظيصحابي
👤←👥عبد الملك بن عمير اللخمي، أبو عمرو، أبو عمر
Newعبد الملك بن عمير اللخمي ← عطية القرظي
صدوق حسن الحديث
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← عبد الملك بن عمير اللخمي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥محمد بن كثير العبدي، أبو عبد الله
Newمحمد بن كثير العبدي ← سفيان الثوري
ثقة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4404 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4404
فوائد ومسائل:
بنو قریظہ یہودی قبیلہ مدینہ کے اطراف میں آباد تھا اور میثاق مدینہ کی روسے یثرب کے دفاع کا ذمہ دار اور پابند تھا، مگر جنگ خندق کے موقع پر انہوں نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قریش مکہ کا ساتھ دیا اور شریک جنگ ہوگیا۔
مسلمانوں کے لئے یہ موقع کڑی آزمائش کا تھا، مگر اللہ تعالی نے نسرت فرمائی اور سب ذلیل خوار ہوکر پسپا ہوگئے۔
بعد ازاں مسلمانوں نے بنو قریظہ کا محاصرہ کیا تو یہ لوگ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر راضی ہوگئے۔
انہوں نےفیصلہ دیا کہ بڑے مردوں اوربالغوں کوقتل کردیا جائے۔
عورتوں اور بالغ بچوں کو غلام لونڈی بنا لیا جائے۔
(تفصیل کےلئے دیکھیے الرحيق المختوم)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4404]

Sunan Abi Dawud Hadith 4404 in Urdu