سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب فِي الْغُلاَمِ يُصِيبُ الْحَدَّ
باب: نابالغ لڑکا حد کا مرتکب ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4404
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي عَطِيَّةُ الْقُرَظِيُّ، قَالَ:" كُنْتُ مِنْ سَبْيِ بَنِي قُرَيْظَةَ فَكَانُوا يَنْظُرُونَ فَمَنْ أَنْبَتَ الشَّعْرَ قُتِلَ وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ لَمْ يُقْتَلْ فَكُنْتُ فِيمَنْ لَمْ يُنْبِتْ".
عطیہ قرظی کہتے ہیں کہ بنی قریظہ کے قیدیوں میں میں بھی تھا تو لوگ دیکھتے تھے جس کے زیر ناف کے بال اگے ہوتے انہیں قتل کر دیتے تھے اور جن کے بال نہیں اگے تھے انہیں قتل نہیں کرتے، تو میں ان لوگوں میں سے تھا جن کے بال نہیں اگے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4404]
سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”میں بنو قریظہ کے قیدیوں میں سے تھا، چنانچہ مسلمانوں نے دیکھنا شروع کیا، یعنی جس جس کے (زیر ناف) بال اگ آئے تھے اسے قتل کر دیا گیا اور جس کے نہیں اگے تھے اسے قتل نہ کیا گیا، چنانچہ میں ان میں سے تھا جن کے بال نہیں اگے تھے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4404]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/السیر 29 (1584)، سنن النسائی/الطلاق 20 (3460)، قطع السارق 14 (4984)، سنن ابن ماجہ/الحدود 4 (2542)، (تحفة الأشراف: 9904)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/310، 383، 5/312، 383) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3974)
مشكوة المصابيح (3974)
حدیث نمبر: 4405
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: فَكَشَفُوا عَانَتِي فَوَجَدُوهَا لَمْ تَنْبُتْ، فَجَعَلُونِي فِي السَّبْيِ.
عبدالملک بن عمیر سے بھی یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے انہوں نے میرے زیر ناف کا حصہ کھولا تو دیکھا کہ وہ اگا نہیں تھا تو مجھے قیدی بنا لیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4405]
عبدالملک بن عمیر نے یہ روایت بیان کی، (عطیہ رضی اللہ عنہ) نے کہا: ”انہوں نے میرے زیرِ ناف سے کپڑا ہٹایا اور پایا کہ میرے بال نہیں اگے ہیں تو مجھے قیدیوں میں شامل کر دیا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4405]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9904) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4404)
انظر الحديث السابق (4404)
حدیث نمبر: 4406
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرِضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ، وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً فَلَمْ يُجِزْهُ وَعُرِضَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَأَجَازَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے غزوہ احد کے دن پیش کئے گئے تو ان کی عمر چودہ سال کی تھی آپ نے انہیں جنگ میں شمولیت کی اجازت نہیں دی، اور غزوہ خندق میں پیش ہوئے تو پندرہ سال کے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4406]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد والے دن ان کا جائزہ لیا جبکہ ان کی عمر چودہ سال تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جنگ میں شریک ہونے کی اجازت نہیں دی تھی، اور پھر خندق والے دن ان کا جائزہ لیا جبکہ وہ پندرہ سال کے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4406]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (2957)، (تحفة الأشراف: 8153) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4097) صحيح مسلم (1868)
وانظر الحديث السابق (2957)
وانظر الحديث السابق (2957)
حدیث نمبر: 4407
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ نَافِعٌ: حَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْحَدُّ بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ.
نافع کہتے ہیں اس حدیث کو میں نے عمر بن عبدالعزیز سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: یہی بالغ اور نابالغ کی حد ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4407]
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو بیان کی تو انہوں نے کہا: ”بلاشبہ بچے اور بڑے میں یہی عمر حد فاصل ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4407]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/ الإمارة 23 (1868)، انظر حدیث رقم: (2957)، (تحفة الأشراف: 7923) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1868)