سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب رجم ماعز بن مالك
باب: ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4422
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ:" رَأَيْتُ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ حِينَ جِيءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا قَصِيرًا أَعْضَلَ لَيْسَ عَلَيْهِ رِدَاءٌ، فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ أَنَّهُ قَدْ زَنَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَلَعَلَّكَ قَبَّلْتَهَا، قَالَ: لَا وَاللَّهِ إِنَّهُ قَدْ زَنَى الْآخِرُ، قَالَ: فَرَجَمَهُ، ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ: أَلَا كُلَّمَا نَفَرْنَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَلَفَ أَحَدُهُمْ لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ يَمْنَحُ إِحْدَاهُنَّ الْكُثْبَةَ، أَمَا إِنَّ اللَّهَ إِنْ يُمَكِّنِّي مِنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ إِلَّا نَكَلْتُهُ عَنْهُنَّ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ماعز بن مالک کو جس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، میں نے انہیں دیکھا کہ وہ ایک پست قد فربہ آدمی تھے، ان کے جسم پر چادر نہ تھی، انہوں نے اپنے خلاف خود ہی چار مرتبہ گواہیاں دیں کہ انہوں نے زنا کیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہو سکتا ہے تم نے بوسہ لیا ہو؟“ انہوں نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی اس رذیل ترین نے زنا کیا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کیا، پھر خطبہ دیا، اور فرمایا: ”آگاہ رہو جب ہم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے چلے جاتے ہیں، اور ان میں سے کوئی ان خاندانوں باقی رہ جاتا ہے تو وہ ویسے ہی پھنکارتا ہے جیسے بکرا جفتی کے وقت بکری پر پھنکارتا ہے، پھر وہ ان عورتوں میں سے کسی کو تھوڑا سامان (جیسے دودھ اور کھجور وغیرہ دے کر اس سے زنا کر بیٹھتا ہے) تو سن لو! اگر اللہ ایسے کسی آدمی پر ہمیں قدرت بخشے گا تو میں اسے ان سے روکوں گا (یعنی سزا دوں گا رجم کی یا کوڑے کی)“۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4422]
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب ماعز بن مالک کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا تو میں نے اسے دیکھا کہ وہ چھوٹے قد کا موٹا آدمی تھا، اس پر چادر نہیں تھی۔ اس نے اپنے اوپر چار گواہیاں دیں کہ اس نے زنا کیا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”شاید تو نے اس کا بوسہ لیا ہوگا؟“ اس نے کہا: ”نہیں اللہ کی قسم! اس نالائق نے زنا کیا ہے۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کیا (یعنی حکم دیا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: ”خبردار! ہم جب اللہ عزوجل کی راہ (جہاد) میں نکلتے ہیں تو کوئی ان میں پیچھے رہ جاتا ہے، ایسے آواز نکالتا ہے جیسے کہ بکرا نکالتا ہے، پھر کسی عورت کو تھوڑی سی کوئی چیز دے دیتا ہے، خبردار! اگر اللہ نے مجھ کو ان میں سے کسی پر قدرت دی تو میں اسے نشانِ عبرت بنا دوں گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4422]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحدود 5 (1692)، (تحفة الأشراف: 2196)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/86، 87) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1692)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جابر بن سمرة العامري، أبو خالد، أبو عبد الله | صحابي | |
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة سماك بن حرب الذهلي ← جابر بن سمرة العامري | صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة | |
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة الوضاح بن عبد الله اليشكري ← سماك بن حرب الذهلي | ثقة ثبت | |
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن مسدد بن مسرهد الأسدي ← الوضاح بن عبد الله اليشكري | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
4425
| برجل قصير أشعث ذي عضلات عليه إزار وقد زنى فرده مرتين ثم أمر به فرجم فقال رسول الله كلما نفرنا غازين في سبيل الله تخلف أحدكم ينب نبيب التيس يمنح إحداهن الكثبة إن الله لا يمكني من أحد منهم إلا جعلته نكالا أو نكلته |
صحيح مسلم |
4424
| رجل قصير أعضل ليس عليه رداء فشهد على نفسه أربع مرات أنه زنى فقال رسول الله فلعلك قال لا والله إنه قد زنى الأخر قال فرجمه ألا كلما نفرنا غازين في سبيل الله خلف أحدهم له نبيب كنبيب التيس يمنح أحدهم الكثبة أما والله إن يمكني من أحدهم لأن |
سنن أبي داود |
4422
| لعلك قبلتها قال لا والله إنه قد زنى الآخر قال فرجمه خطب فقال ألا كلما نفرنا في سبيل الله خلف أحدهم له نبيب كنبيب التيس يمنح إحداهن الكثبة أما إن الله إن يمكني من أحد منهم إلا نكلته عنهن |
Sunan Abi Dawud Hadith 4422 in Urdu
سماك بن حرب الذهلي ← جابر بن سمرة العامري