🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. باب في إقامة الحد على المريض
باب: مریض پر حد نافذ کرنے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4473
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" فَجَرَتْ جَارِيَةٌ لِآلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا عَلِيُّ انْطَلِقْ فَأَقِمْ عَلَيْهَا الْحَدَّ، فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا بِهَا دَمٌ يَسِيلُ لَمْ يَنْقَطِعْ فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ: يَا عَلِيُّ أَفَرَغْتَ؟ قُلْتُ: أَتَيْتُهَا وَدَمُهَا يَسِيلُ، فَقَالَ: دَعْهَا حَتَّى يَنْقَطِعَ دَمُهَا ثُمَّ أَقِمْ عَلَيْهَا الْحَدَّ، وَأَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو الْأَحْوَصِ،عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، فَقَالَ فِيهِ قَال: لَا تَضْرِبْهَا حَتَّى تَضَعَ، وَالْأَوَّلُ أَصَحُّ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے کسی کی لونڈی نے حرام کاری کر لی تو آپ نے فرمایا: علی! جاؤ اور اس پر حد قائم کرو میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس کا خون بہے چلا جا رہا ہے، رکتا ہی نہیں، یہ دیکھ کر میں آپ کے پاس واپس آ گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: علی! کیا حد لگا کر آ گئے؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس کے پاس آیا دیکھا تو اس کا خون بہ رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا بند ہونے تک رکے رہو، جب بند ہو جائے تو اسے ضرور حد لگاؤ، اور حدوں کو اپنے غلاموں اور لونڈیوں پر بھی قائم کیا کرو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ابوالاحوص نے عبدالاعلیٰ سے روایت کیا ہے، اور اسے شعبہ نے بھی عبدالاعلی سے روایت کیا ہے، اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے حد نہ لگانا جب تک وہ بچہ جن نہ دے لیکن پہلی روایت زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4473]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10283)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحدود 7 (1705)، سنن الترمذی/الحدود 13 (1441)، مسند احمد (1/89، 95، 135، 136، 145) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح م دون قوله وأقيموا الحدود
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبدالأعلي بن عامر الثعلبي ضعيف
وحديث مسلم (1705) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 158

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الأعلى بن عامر الثعلبيضعيف الحديث
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عبد الأعلى بن عامر الثعلبي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥عبد الأعلى بن عامر الثعلبي
Newعبد الأعلى بن عامر الثعلبي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ضعيف الحديث
👤←👥سلام بن سليم الحنفي، أبو الأحوص
Newسلام بن سليم الحنفي ← عبد الأعلى بن عامر الثعلبي
ثقة متقن
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسين
Newعلي بن أبي طالب الهاشمي ← سلام بن سليم الحنفي
صحابي
👤←👥ميسرة بن يعقوب الطهوي، أبو جميلة
Newميسرة بن يعقوب الطهوي ← علي بن أبي طالب الهاشمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الأعلى بن عامر الثعلبي
Newعبد الأعلى بن عامر الثعلبي ← ميسرة بن يعقوب الطهوي
ضعيف الحديث
👤←👥إسرائيل بن يونس السبيعي، أبو يوسف
Newإسرائيل بن يونس السبيعي ← عبد الأعلى بن عامر الثعلبي
ثقة
👤←👥محمد بن كثير العبدي، أبو عبد الله
Newمحمد بن كثير العبدي ← إسرائيل بن يونس السبيعي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
4473
أقيموا الحدود على ما ملكت أيمانكم
بلوغ المرام
1040
أقيموا الحدود على ما ملكت أيمانكم
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4473 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4473
فوائد ومسائل:
زنا سے حاملہ عورت کووضع حمل کے بعد حد لگائی جائے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4473]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1040
زانی کی حد کا بیان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے قبضہ میں لونڈی غلام پر حدیں قائم کرو۔ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور مسلم میں یہ روایت موقوف ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1040»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الحدود، باب في إقامة الحدعلي المريض، حديث:4473، وحديث مسلم، الحدود، حديث:1705، والترمذي، الحدود، حديث:1441 وغيرهما يغني عنه.»
تشریح:
1. مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور اس کی بابت مزید لکھا ہے کہ صحیح مسلم اور جامع الترمذی کی روایات اس سے کفایت کرتی ہیں‘ جس سے معلوم ہوا کہ مذکورہ روایت ہمارے فاضل محقق کے نزدیک بھی قابل عمل ہے۔
علاوہ ازیں دیگر محققین نے بھی اسے حسن لغیرہ قرار دیا ہے۔
بنابریں مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۲ /۱۳۸) 2. اس حدیث اور گزشتہ حدیث سے معلوم ہوا کہ لونڈی اور غلام پر اس کا مالک حد نافذ کر سکتا ہے اور آزاد کے مقابلے میں ان پر آدھی سزا نافذ کی جائے گی جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَعَلَیْھِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ﴾ ان پر پاک دامن آزاد عورت کی سزا سے نصف سزا ہے۔
اگر لونڈی شادی شدہ ہو تو اس پر حد نافذ کرنے میں اختلاف ہے کہ اس پر حد حکومت لگائے گی یا مالک۔
جمہور کہتے ہیں کہ اس پر اس صورت میں بھی مالک ہی حد لگائے گا۔
امام مالک رحمہ اللہ کی رائے ہے کہ شادی شدہ لونڈی پر مالک حد لگانے کا مجاز نہیں کیونکہ اس صورت میں وہ صرف مالک کی لونڈی ہی نہیں دوسرے کی بیوی بھی ہے‘ ہاں اگر لونڈی کا خاوند بھی اسی مالک کا غلام ہو تو پھر مالک اس پر حد لگا سکتا ہے۔
3. لونڈی کے لیے ثبوت زنا کی وہی صورتیں ہیں جو ایک آزاد عورت کے لیے ہیں‘ البتہ بعض حضرات کی یہ رائے بھی ہے کہ اگر لونڈی کے زنا کی شہادتیں اور اقرار نہ ہو اور مالک کو یقین و وثوق ہو کہ لونڈی نے زنا کا ارتکاب کیا ہے تو مالک محض اپنے یقین و وثوق کی بنیاد پر بھی حد نافذ کر سکتا ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1040]