سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. باب إذا تتابع في شرب الخمر
باب: جو باربار شراب پیئے اس کی سزا کا بیان۔
حدیث نمبر: 4489
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ الْفَتْحِ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ يَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، فَأُتِيَ بِشَارِبٍ فَأَمَرَهُمْ فَضَرَبُوهُ بِمَا فِي أَيْدِيهِمْ فَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِالسَّوْطِ وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِعَصًا وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِنَعْلِهِ، وَحَثَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التُّرَابَ، فَلَمَّا كَانَ أَبُو بَكْرٍ أُتِيَ بِشَارِبٍ فَسَأَلَهُمْ عَنْ ضَرْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي ضَرَبَهُ فَحَزَرُوهُ أَرْبَعِينَ، فَضَرَبَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ كَتَبَ إِلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ انْهَمَكُوا فِي الشُّرْبِ وَتَحَاقَرُوا الْحَدَّ وَالْعُقُوبَةَ، قَالَ: هُمْ عِنْدَكَ فَسَلْهُمْ وَعِنْدَهُ الْمُهَاجِرُونَ الْأَوَّلُونَ، فَسَأَلَهُمْ فَأَجْمَعُوا عَلَى أَنْ يَضْرِبَ ثَمَانِينَ، قَالَ: وقَالَ عَلِيٌّ: إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا شَرِبَ افْتَرَى فَأَرَى أَنْ يَجْعَلَهُ كَحَدِّ الْفِرْيَةِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَدْخَلَ عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ بَيْنَ الزُّهْرِيِّ، وَبَيْنَ ابْنِ الْأَزْهَرِ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ: عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَزْهَرِ، عَنْ أَبِيهِ.
عبدالرحمٰن بن ازہر کہتے ہیں کہ میں نے فتح مکہ کے دوسرے دن صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا میں ایک کمسن لڑکا تھا، لوگوں میں گھس کر آیا جایا کرتا تھا، آپ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیام گاہ ڈھونڈ رہے تھے کہ اتنے میں ایک شرابی لایا گیا، آپ نے اسے مارنے کا حکم دیا، تو لوگوں کے ہاتھوں میں جو چیز بھی تھی اسی سے انہوں نے اس کی پٹائی کی، کسی نے اسے کوڑے سے، کسی نے لاٹھی سے، کسی نے جوتے سے پیٹا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے منہ پر مٹی ڈال دی، پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو ان کے پاس ایک شرابی لایا گیا تو انہوں نے لوگوں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مار کے متعلق دریافت کیا جسے آپ نے مارا تھا تو لوگوں نے اس کا اندازہ لگایا کہ یہ چالیس کوڑے رہے ہوں گے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی حد چالیس کوڑے مقرر کر دی، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو خالد بن ولید نے انہیں لکھا کہ لوگ کثرت سے شراب پینے لگے ہیں اور اس کی حد اور سزا کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور لکھا کہ لوگ آپ کے پاس ہیں ان سے پوچھ لیں، اس وقت ان کے پاس مہاجرین اولین موجود تھے، آپ نے ان سے پوچھا تو سب کا اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ اسی کوڑے مارے جائیں، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: آدمی جب شراب پیتا ہے تو بہتان باندھتا ہے اس لیے میری رائے یہ ہے کہ اس کی حد بہتان کی حد کر دی جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4489]
سیدنا عبدالرحمٰن بن ازہر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کی صبح کو دیکھا، میں اس موقع پر خوب جوان تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان میں سے جا رہے تھے اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا پڑاؤ دریافت فرما رہے تھے کہ ایک شرابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا تو انہوں نے اس کو جو ان کے ہاتھ میں تھا، مارا۔ بعض نے کوڑا مارا، بعض نے لاٹھی ماری، بعض نے اپنا جوتا مارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر مٹی پھینکی۔“ پھر جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو ایک شراب نوش لایا گیا، تو انہوں نے صحابہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل دریافت فرمایا کہ انہوں نے کس قدر مارا تھا۔ تو انہوں نے اس کا اندازہ چالیس ضربوں کا لگایا۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس ضربیں لگائیں۔ پھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان کو لکھا کہ لوگ شراب پینے میں منہمک ہو گئے ہیں اور اس حد اور سزا کو وہ معمولی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ”صحابہ کرام آپ کے پاس ہیں ان سے دریافت کیجیے۔“ اور آپ کے پاس دورِ اول کے مہاجر صحابہ موجود تھے، تو آپ نے ان سے مشورہ کیا۔ انہوں نے اتفاق کیا کہ ایسے لوگوں کو اسی (80) ضربیں لگائی جائیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تحقیق شرابی جب شراب پیتا ہے تو جھوٹ بولتا اور تہمت لگاتا ہے، سو میں سمجھتا ہوں کہ اس حد کو تہمت کی حد کی مانند کر دیا جائے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ”عقیل بن خالد نے اس روایت کی سند میں زہری اور عبدالرحمٰن بن ازہر کے مابین «عَبْدُ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ عَنْ أَبِيهِ» ”عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ازہر عن ابیہ“ کا اضافہ کر دیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4489]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (4487)، (تحفة الأشراف: 9685) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3620)
انظر الحديث السابق (4488)
مشكوة المصابيح (3620)
انظر الحديث السابق (4488)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الرحمن بن الأزهر الزهري، أبو جبيرة، أبو جبير | صحابي | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عبد الرحمن بن الأزهر الزهري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥أسامة بن زيد الليثي، أبو زيد أسامة بن زيد الليثي ← محمد بن شهاب الزهري | صدوق يهم كثيرا | |
👤←👥عثمان بن عمر العبدي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عدي عثمان بن عمر العبدي ← أسامة بن زيد الليثي | ثقة | |
👤←👥الحسن بن علي الهذلي، أبو علي، أبو محمد الحسن بن علي الهذلي ← عثمان بن عمر العبدي | ثقة حافظ له تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4488
| ارفقوا فرفقوا فتوفي رسول الله ثم جلد أبو بكر في الخمر أربعين ثم جلد عمر أربعين صدرا من إمارته ثم جلد ثمانين في آخر خلافته ثم جلد عثمان الحدين كليهما ثمانين وأربعين ثم أثبت معاوية الحد ثمانين |
سنن أبي داود |
4489
| رأيت رسول الله غداة الفتح وأنا غلام شاب يتخلل الناس يسأل عن منزل خالد بن الوليد فأتي بشارب فأمرهم فضربوه بما في أيديهم فمنهم من ضربه بالسوط ومنهم من ضربه بعصا ومنهم من ضربه بنعله وحثى رسول الله التراب لما كان أبو بكر |
سنن أبي داود |
4487
| اضربوه فمنهم من ضربه بالنعال ومنهم من ضربه بالعصا ومنهم من ضربه بالميتخة قال ابن وهب الجريدة الرطبة ثم أخذ رسول الله ترابا من الأرض فرمى به في وجهه |
Sunan Abi Dawud Hadith 4489 in Urdu
محمد بن شهاب الزهري ← عبد الرحمن بن الأزهر الزهري