سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب في القدر
باب: تقدیر (قضاء و قدر) کا بیان۔
حدیث نمبر: 4700
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ الْهُذَلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ رَبَاحٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ أَبِي حَفْصَةَ، قَالَ: قَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ لِابْنِهِ: يَا بُنَيَّ إِنَّكَ لَنْ تَجِدَ طَعْمَ حَقِيقَةِ الْإِيمَانِ حَتَّى تَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَمَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّهُ الْقَلَمَ فَقَالَ لَهُ: اكْتُبْ قَالَ: رَبِّ وَمَاذَا أَكْتُبُ؟ قَالَ: اكْتُبْ مَقَادِيرَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، يَا بُنَيَّ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ مَاتَ عَلَى غَيْرِ هَذَا فَلَيْسَ مِنِّي".
ابوحفصہ کہتے ہیں کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سے کہا: اے میرے بیٹے! تم ایمان کی حقیقت کا مزہ ہرگز نہیں پا سکتے جب تک کہ تم یہ نہ جان لو کہ جو کچھ تمہیں ملا ہے وہ ایسا نہیں کہ نہ ملتا اور جو کچھ نہیں ملا ہے ایسا نہیں کہ وہ تمہیں مل جاتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”سب سے پہلی چیز جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، قلم ہے، اللہ تعالیٰ نے اس سے کہا: لکھ، قلم نے کہا: اے میرے رب! میں کیا لکھوں؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: قیامت تک ہونے والی ساری چیزوں کی تقدیریں لکھ“ اے میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو اس کے علاوہ (کسی اور عقیدے) پر مرا تو وہ مجھ سے نہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4700]
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سے کہا تھا: ”اور جو حاصل نہیں ہوا ہے، وہ مل نہیں سکتا تھا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”سب سے پہلی چیز جو اللہ نے پیدا فرمائی وہ قلم تھی۔ پھر اس سے فرمایا کہ لکھو، اس نے کہا: اے میرے رب! کیا لکھوں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: قیامت قائم ہونے تک ہر ہر چیز کی تقدیر لکھ۔“ اے میرے بیٹے! بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جو شخص اس کے سوا (کسی اور عقیدے) پر مر گیا وہ مجھ سے نہیں۔““ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4700]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5082)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/القدر 17 (2155)، تفسیر سورة النون 66 (3319) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وله شاھد عند أبي يعلٰي الموصلي (2329 وسنده صحيح)
وله شاھد عند أبي يعلٰي الموصلي (2329 وسنده صحيح)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2155
| أول ما خلق الله القلم فقال اكتب فقال ما أكتب قال اكتب القدر ما كان وما هو كائن إلى الأبد |
جامع الترمذي |
3319
| أول ما خلق الله القلم |
سنن أبي داود |
4700
| أول ما خلق الله القلم فقال له اكتب قال رب وماذا أكتب قال اكتب مقادير كل شيء حتى تقوم الساعة يا بني إني سمعت رسول الله يقول من مات على غير هذا فليس مني |
Sunan Abi Dawud Hadith 4700 in Urdu
حبيش بن شريح الحبشي ← عبادة بن الصامت الأنصاري