علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. باب في كراهية البزاق في المسجد
باب: مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 479
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمًا إِذْ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَتَغَيَّظَ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ حَكَّهَا، قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: فَدَعَا بِزَعْفَرَانٍ فَلَطَّخَهُ بِهِ، وَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِ أَحَدِكُمْ إِذَا صَلَّى، فَلَا يَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، وَمَالِكٍ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، نَحْوَ حَمَّادٍ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرُوا الزَّعْفَرَانَ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَأَثْبَتَ الزَّعْفَرَانَ فِيهِ، وَذَكَرَ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ الْخَلُوقَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھا تو آپ لوگوں پر ناراض ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھرچ کر صاف کیا۔ راوی کہتے ہیں: میرے خیال میں ابن عمر نے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زعفران منگا کر اس میں رگڑ دیا اور فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے ۱؎، لہٰذا وہ اپنے سامنے نہ تھوکے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسماعیل اور عبدالوارث نے یہ حدیث ایوب سے اور انہوں نے نافع سے روایت کی ہے اور مالک، عبیداللہ اور موسیٰ بن عقبہ نے (براہ راست) نافع سے حماد کی طرح روایت کی ہے مگر ان لوگوں نے زعفران کا ذکر نہیں کیا ہے، اور معمر نے اسے ایوب سے روایت کیا ہے اور اس میں زعفران کا لفظ موجود ہے، اور یحییٰ بن سلیم نے عبیداللہ کے واسطہ سے اور انہوں نے نافع کے واسطہ سے (زعفران کے بجائے) «خلوق» (ایک قسم کی خوشبو) کا ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 479]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ رخ کی دیوار پر دیکھا کہ اس پر بلغم لگا ہوا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر ناراض ہوئے، پھر اسے کھرچ ڈالا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زعفران منگوایا اور اس پر لگایا اور فرمانے لگے: ”جب تم نماز پڑھتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے ہوتا ہے، لہٰذا کوئی شخص اپنے سامنے نہ تھوکے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اس حدیث کو اسماعیل اور عبدالوارث نے ایوب سے انہوں نے نافع سے اور مالک، عبیداللہ اور موسیٰ بن عقبہ (تینوں) نے نافع سے حماد کی مانند روایت کیا ہے مگر انہوں نے ”زعفران“ کا ذکر نہیں کیا، لیکن اس کو معمر نے ایوب سے روایت کیا تو ”زعفران“ کا ذکر کیا ہے، اور یحییٰ بن سلیم نے عبیداللہ سے انہوں نے نافع سے روایت کیا تو اس نے «الْخَلُوق» یعنی ”خوشبو“ کا ذکر کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 479]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 33 (406)، والأذان 94 (753)، والعمل في الصلاة 2 (1213)، والأدب 75 (6111)، صحیح مسلم/المساجد 13 (547)، (تحفة الأشراف: 7518)وقد أخرجہ: سنن النسائی/المساجد 30 (724)، سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات 10 (724)، موطا امام مالک/القبلہ 3 (4)، مسند احمد (2/32، 66، 83، 96) سنن الدارمی/الصلاة 116 (1437) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اللہ تعالی کی رحمت مصلی کے سامنے ہوتی ہے کیونکہ دوسری روایت میں ہے «فإن الرحمة تواجهه» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1213) صحيح مسلم (547)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← نافع مولى ابن عمر | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥سليمان بن داود العتكي، أبو الربيع سليمان بن داود العتكي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
753
| أحدكم إذا كان في الصلاة فإن الله قبل وجهه لا يتنخمن أحد قبل وجهه في الصلاة |
صحيح البخاري |
6111
| أحدكم إذا كان في الصلاة فإن الله حيال وجهه لا يتنخمن حيال وجهه في الصلاة |
صحيح البخاري |
406
| إذا كان أحدكم يصلي لا يبصق قبل وجهه فإن الله قبل وجهه إذا صلى |
صحيح البخاري |
1213
| الله قبل أحدكم فإذا كان في صلاته لا يبزقن أو قال لا يتنخمن ثم نزل فحتها بيده |
صحيح مسلم |
1223
| إذا كان أحدكم يصلي لا يبصق قبل وجهه فإن الله قبل وجهه إذا صلى |
سنن أبي داود |
479
| الله قبل وجه أحدكم إذا صلى لا يبزق بين يديه |
سنن النسائى الصغرى |
725
| إذا كان أحدكم يصلي لا يبصقن قبل وجهه فإن الله قبل وجهه إذا صلى |
سنن ابن ماجه |
763
| أحدكم إذا كان في الصلاة فإن الله قبل وجهه لا يتنخمن أحدكم قبل وجهه في الصلاة |
موطا امام مالك رواية ابن القاسم |
96
| إذا كان احدكم يصلي فلا يبصق قبل وجهه فإن الله قبل وجهه إذا صلى |
Sunan Abi Dawud Hadith 479 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي