🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب في كراهية التمادح
باب: بے جا تعریف اور مدح سرائی کی برائی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4805
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ،" أَنَّ رَجُلًا أَثْنَى عَلَى رَجُلٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: إِذَا مَدَحَ أَحَدُكُمْ صَاحِبَهُ لَا مَحَالَةَ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي أَحْسِبُهُ كَمَا يُرِيدُ أَنْ يَقُولَ، وَلَا أُزَكِّيهِ عَلَى اللَّهِ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کی تعریف کی، تو آپ نے اس سے فرمایا: تم نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی اسے آپ نے تین بار کہا، پھر فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اپنے ساتھی کی مدح و تعریف کرنی ہی پڑ جائے تو یوں کہے: میں اسے ایسے ہی سمجھ رہا ہوں، لیکن میں اللہ کے بالمقابل اس کا تزکیہ نہیں کرتا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4805]
سیدنا عبدالرحمٰن بن ابوبکرہ رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دوسرے کی تعریف کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین بار فرمایا۔ پھر فرمایا: اگر کوئی اپنے کسی ساتھی کی مدح کرنا ہی چاہتا ہو تو چاہیے کہ یوں کہے: میں اسے یوں سمجھتا ہوں کہ وہ ایسے ایسے ہے اور اللہ کے علم کے مقابلے میں، میں اس کی صفائی نہیں دیتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4805]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأدب 95 (6162)، صحیح مسلم/الزھد 14 (3000)، سنن ابن ماجہ/الأدب 36 (3744)، (تحفة الأشراف: 11678)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/41، 45، 46، 47، 50) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ میں اس کا ظاہر دیکھ کر ایسا کہہ رہا ہوں رہا اس کا باطن تو اس کا علم اللہ ہی کو ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6061) صحيح مسلم (3000)


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥نفيع بن مسروح الثقفي، أبو بكرةصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن أبي بكرة الثقفي، أبو بحر، أبو حاتم
Newعبد الرحمن بن أبي بكرة الثقفي ← نفيع بن مسروح الثقفي
ثقة
👤←👥خالد الحذاء، أبو المنازل، أبو عبد الله
Newخالد الحذاء ← عبد الرحمن بن أبي بكرة الثقفي
ثقة
👤←👥عبد ربه بن نافع الكناني، أبو شهاب
Newعبد ربه بن نافع الكناني ← خالد الحذاء
ثقة
👤←👥أحمد بن يونس التميمي، أبو عبد الله
Newأحمد بن يونس التميمي ← عبد ربه بن نافع الكناني
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2662
قطعت عنق صاحبك من كان منكم مادحا أخاه لا محالة فليقل أحسب فلانا والله حسيبه ولا أزكي على الله أحدا أحسبه كذا وكذا إن كان يعلم ذلك منه
صحيح البخاري
6061
قطعت عنق صاحبك إن كان أحدكم مادحا لا محالة فليقل أحسب كذا وكذا إن كان يرى أنه كذلك وحسيبه الله ولا يزكي على الله أحدا
صحيح البخاري
6162
قطعت عنق أخيك من كان منكم مادحا لا محالة فليقل أحسب فلانا والله حسيبه ولا أزكي على الله أحدا إن كان يعلم
صحيح مسلم
7502
قطعت عنق صاحبك إن كان أحدكم مادحا أخاه لا محالة فليقل أحسب فلانا إن كان يرى أنه كذلك ولا أزكي على الله أحدا
صحيح مسلم
7502
قطعت عنق صاحبك إذا كان أحدكم مادحا صاحبه لا محالة فليقل أحسب فلانا والله حسيبه ولا أزكي على الله أحدا أحسبه إن كان يعلم ذاك كذا وكذا
سنن أبي داود
4805
قطعت عنق صاحبك إذا مدح أحدكم صاحبه لا محالة فليقل إني أحسبه كما يريد أن يقول ولا أزكيه على الله
سنن ابن ماجه
3744
قطعت عنق صاحبك إن كان أحدكم مادحا أخاه فليقل أحسبه ولا أزكي على الله أحدا
Sunan Abi Dawud Hadith 4805 in Urdu