🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. باب في كراهية البزاق في المسجد
باب: مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 485
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيُّ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيَّانِ، بهذا الحديث وهذا لفظ يحيى بن الفضل السجستاني، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَتَيْنَا جَابِرًا يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ فِي مَسْجِدِهِ، فَقَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِنَا هَذَا وَفِي يَدِهِ عُرْجُونُ ابْنِ طَابٍ، فَنَظَرَ فَرَأَى فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ نُخَامَةً فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا فَحَتَّهَا بِالْعُرْجُونِ، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ بِوَجْهِهِ؟ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ، فَلَا يَبْصُقَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْزُقْ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى، فَإِنْ عَجِلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ فَلْيَقُلْ بِثَوْبِهِ هَكَذَا، وَوَضَعَهُ عَلَى فِيهِ، ثُمَّ دَلَكَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَرُونِي عَبِيرًا، فَقَامَ فَتًى مِنَ الْحَيِّ يَشْتَدُّ إِلَى أَهْلِهِ فَجَاءَ بِخَلُوقٍ فِي رَاحَتِهِ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَهُ عَلَى رَأْسِ الْعُرْجُونِ ثُمَّ لَطَخَ بِهِ عَلَى أَثَرِ النُّخَامَةِ"، قَالَ جَابِرٌ: فَمِنْ هُنَاكَ جَعَلْتُمُ الْخَلُوقَ فِي مَسَاجِدِكُمْ.
عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، وہ اپنی مسجد میں تھے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری اس مسجد میں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ابن طاب ۱؎ کی ایک ٹہنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھا تو اس کی طرف بڑھے اور اسے ٹہنی سے کھرچا، پھر فرمایا: تم میں سے کون یہ پسند کرتا ہے کہ اللہ اس سے اپنا چہرہ پھیر لے؟، پھر فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے، لہٰذا اپنے سامنے اور اپنے داہنی طرف ہرگز نہ تھوکے، بلکہ اپنے بائیں طرف اپنے بائیں پیر کے نیچے تھوکے اور اگر جلدی میں کوئی چیز (بلغم) آ جائے تو اپنے کپڑے سے اس طرح کرے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے کو اپنے منہ پر رکھا (اور اس میں تھوکا) پھر اسے مل دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے «عبير» ۲؎ لا کر دو، چنانچہ محلے کا ایک نوجوان اٹھا، دوڑتا ہوا اپنے گھر والوں کے پاس گیا اور اپنی ہتھیلی میں «خلوق» ۳؎ لے کر آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے کر لکڑی کی نوک میں لگایا اور جہاں بلغم لگا تھا وہاں اسے پوت دیا۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اسی وجہ سے تم لوگ اپنی مسجدوں میں «خلوق» لگایا کرتے ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 485]
جناب عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت نے کہا کہ ہم سیدنا جابر یعنی جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ہاں آئے اور وہ اپنی مسجد میں تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری مسجد میں تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ابن طاب کھجور کی شاخ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو آپ کی نظر قبلے کی دیوار پر لگے بلغم پر پڑی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف گئے اور شاخ سے کھرچ ڈالا، پھر فرمایا: تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ اللہ اس سے منہ پھیر لے؟ پھر فرمایا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے ہوتا ہے، تو کوئی شخص اپنے قبلہ رخ یا دائیں طرف ہرگز نہ تھوکے بلکہ اپنے بائیں جانب یا بائیں قدم کے نیچے تھوکے۔ اگر جلدی ہو تو اپنے کپڑے میں ایسے ایسے کر لیا کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑا اپنے منہ پر رکھا پھر اسے مسل دیا، پھر فرمایا: خوشبو لاؤ۔ تو قبیلے کا ایک نوجوان اٹھا اور دوڑتا ہوا اپنے گھر گیا اور اپنی ہتھیلی میں خوشبو لے آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شاخ کے سرے پر لگا کر بلغم والی جگہ پر لگا دیا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: بس یہیں سے تم لوگ اپنی مساجد میں خوشبو لگاتے ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 485]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2359)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/324) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ابن طاب ایک قسم کی کھجور کا نام ہے۔
۲؎: ایک قسم کی خوشبو ہے۔
۳؎: ایک قسم کی خوشبو ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (3008)
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبادة بن الوليد الأنصاري، أبو الصامت، أبو الوليد
Newعبادة بن الوليد الأنصاري ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥يعقوب بن مجاهد المخزومي، أبو يوسف
Newيعقوب بن مجاهد المخزومي ← عبادة بن الوليد الأنصاري
ثقة
👤←👥حاتم بن إسماعيل الحارثي، أبو إسماعيل
Newحاتم بن إسماعيل الحارثي ← يعقوب بن مجاهد المخزومي
ثقة
👤←👥سليمان بن عبد الرحمن التميمي، أبو أيوب
Newسليمان بن عبد الرحمن التميمي ← حاتم بن إسماعيل الحارثي
صدوق حسن الحديث
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← سليمان بن عبد الرحمن التميمي
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
👤←👥يحيى بن الفضل السجستاني
Newيحيى بن الفضل السجستاني ← هشام بن عمار السلمي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
7514
رأى في قبلة المسجد نخامة فحكها بالعرجون ثم أقبل علينا فقال أيكم يحب أن يعرض الله عنه قال فخشعنا ثم قال أيكم يحب أن يعرض الله عنه قال فخشعنا ثم قال أيكم يحب أن يعرض الله عنه قلنا لا أينا يا رسول الله إن أحدكم إذا قام يصلي فإن الله تبارك و قبل وجه
سنن أبي داود
485
أيكم يحب أن يعرض الله عنه بوجهه ثم قال إن أحدكم إذا قام يصلي فإن الله قبل وجهه لا يبصقن قبل وجهه ولا عن يمينه وليبزق عن يساره تحت رجله اليسرى فإن عجلت به بادرة فليقل بثوبه هكذا ووضعه على فيه ثم دلكه أروني عبيرا فقام فتى من الحي يشتد إلى أهله
المعجم الصغير للطبراني
233
صلى فى ثوب متوشحا به
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 485 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 485
485۔ اردو حاشیہ:
تھوک، بلغم یا ناک کی آلائش نجس نہیں ہیں، کپڑے میں لگ جائیں تو کپڑا پاک رہتا ہے۔ مگر نضافت کے بالکل خلاف ہے، مسجد اور دیگر محترم مقامات اور اشیاء کا انتہائی ادب و اعزاز رکھنا واجب ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 485]

Sunan Abi Dawud Hadith 485 in Urdu