سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. باب في كراهية البزاق في المسجد
باب: مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 485
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيُّ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيَّانِ، بهذا الحديث وهذا لفظ يحيى بن الفضل السجستاني، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَتَيْنَا جَابِرًا يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ فِي مَسْجِدِهِ، فَقَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِنَا هَذَا وَفِي يَدِهِ عُرْجُونُ ابْنِ طَابٍ، فَنَظَرَ فَرَأَى فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ نُخَامَةً فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا فَحَتَّهَا بِالْعُرْجُونِ، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ بِوَجْهِهِ؟ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ، فَلَا يَبْصُقَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْزُقْ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى، فَإِنْ عَجِلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ فَلْيَقُلْ بِثَوْبِهِ هَكَذَا، وَوَضَعَهُ عَلَى فِيهِ، ثُمَّ دَلَكَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَرُونِي عَبِيرًا، فَقَامَ فَتًى مِنَ الْحَيِّ يَشْتَدُّ إِلَى أَهْلِهِ فَجَاءَ بِخَلُوقٍ فِي رَاحَتِهِ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَهُ عَلَى رَأْسِ الْعُرْجُونِ ثُمَّ لَطَخَ بِهِ عَلَى أَثَرِ النُّخَامَةِ"، قَالَ جَابِرٌ: فَمِنْ هُنَاكَ جَعَلْتُمُ الْخَلُوقَ فِي مَسَاجِدِكُمْ.
عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، وہ اپنی مسجد میں تھے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری اس مسجد میں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ابن طاب ۱؎ کی ایک ٹہنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھا تو اس کی طرف بڑھے اور اسے ٹہنی سے کھرچا، پھر فرمایا: ”تم میں سے کون یہ پسند کرتا ہے کہ اللہ اس سے اپنا چہرہ پھیر لے؟“، پھر فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے، لہٰذا اپنے سامنے اور اپنے داہنی طرف ہرگز نہ تھوکے، بلکہ اپنے بائیں طرف اپنے بائیں پیر کے نیچے تھوکے اور اگر جلدی میں کوئی چیز (بلغم) آ جائے تو اپنے کپڑے سے اس طرح کرے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے کو اپنے منہ پر رکھا (اور اس میں تھوکا) پھر اسے مل دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے «عبير» ۲؎ لا کر دو“، چنانچہ محلے کا ایک نوجوان اٹھا، دوڑتا ہوا اپنے گھر والوں کے پاس گیا اور اپنی ہتھیلی میں «خلوق» ۳؎ لے کر آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے کر لکڑی کی نوک میں لگایا اور جہاں بلغم لگا تھا وہاں اسے پوت دیا۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اسی وجہ سے تم لوگ اپنی مسجدوں میں «خلوق» لگایا کرتے ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 485]
جناب عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت نے کہا کہ ہم سیدنا جابر یعنی جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ہاں آئے اور وہ اپنی مسجد میں تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری مسجد میں تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ابن طاب کھجور کی شاخ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو آپ کی نظر قبلے کی دیوار پر لگے بلغم پر پڑی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف گئے اور شاخ سے کھرچ ڈالا، پھر فرمایا: ”تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ اللہ اس سے منہ پھیر لے؟“ پھر فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے ہوتا ہے، تو کوئی شخص اپنے قبلہ رخ یا دائیں طرف ہرگز نہ تھوکے بلکہ اپنے بائیں جانب یا بائیں قدم کے نیچے تھوکے۔ اگر جلدی ہو تو اپنے کپڑے میں ایسے ایسے کر لیا کرے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑا اپنے منہ پر رکھا پھر اسے مسل دیا، پھر فرمایا: ”خوشبو لاؤ۔“ تو قبیلے کا ایک نوجوان اٹھا اور دوڑتا ہوا اپنے گھر گیا اور اپنی ہتھیلی میں خوشبو لے آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شاخ کے سرے پر لگا کر بلغم والی جگہ پر لگا دیا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”بس یہیں سے تم لوگ اپنی مساجد میں خوشبو لگاتے ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 485]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2359)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/324) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ابن طاب ایک قسم کی کھجور کا نام ہے۔
۲؎: ایک قسم کی خوشبو ہے۔
۳؎: ایک قسم کی خوشبو ہے۔
۲؎: ایک قسم کی خوشبو ہے۔
۳؎: ایک قسم کی خوشبو ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (3008)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
7514
| رأى في قبلة المسجد نخامة فحكها بالعرجون ثم أقبل علينا فقال أيكم يحب أن يعرض الله عنه قال فخشعنا ثم قال أيكم يحب أن يعرض الله عنه قال فخشعنا ثم قال أيكم يحب أن يعرض الله عنه قلنا لا أينا يا رسول الله إن أحدكم إذا قام يصلي فإن الله تبارك و قبل وجه |
سنن أبي داود |
485
| أيكم يحب أن يعرض الله عنه بوجهه ثم قال إن أحدكم إذا قام يصلي فإن الله قبل وجهه لا يبصقن قبل وجهه ولا عن يمينه وليبزق عن يساره تحت رجله اليسرى فإن عجلت به بادرة فليقل بثوبه هكذا ووضعه على فيه ثم دلكه أروني عبيرا فقام فتى من الحي يشتد إلى أهله |
المعجم الصغير للطبراني |
233
| صلى فى ثوب متوشحا به |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 485 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 485
485۔ اردو حاشیہ:
تھوک، بلغم یا ناک کی آلائش نجس نہیں ہیں، کپڑے میں لگ جائیں تو کپڑا پاک رہتا ہے۔ مگر نضافت کے بالکل خلاف ہے، مسجد اور دیگر محترم مقامات اور اشیاء کا انتہائی ادب و اعزاز رکھنا واجب ہے۔
تھوک، بلغم یا ناک کی آلائش نجس نہیں ہیں، کپڑے میں لگ جائیں تو کپڑا پاک رہتا ہے۔ مگر نضافت کے بالکل خلاف ہے، مسجد اور دیگر محترم مقامات اور اشیاء کا انتہائی ادب و اعزاز رکھنا واجب ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 485]
Sunan Abi Dawud Hadith 485 in Urdu
عبادة بن الوليد الأنصاري ← جابر بن عبد الله الأنصاري