سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب ما جاء في المشرك يدخل المسجد
باب: مشرک مسجد میں داخل ہو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 487
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَعَثَ بَنُو سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ضِمَامَ بْنَ ثَعْلَبَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ عَلَيْهِ فَأَنَاخَ بَعِيرَهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ: فَقَالَ: أَيُّكُمْ ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بنی سعد بن بکرنے ضمام بن ثعلبہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، وہ آپ کے پاس آئے انہوں نے اپنا اونٹ مسجد کے دروازے پر بٹھایا اور اسے باندھ دیا پھر مسجد میں داخل ہوئے، پھر محمد بن عمرو نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی، اس میں ہے اس نے کہا: تم میں عبدالمطلب کا بیٹا کون ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبدالمطلب کا بیٹا میں ہوں“، تو اس نے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! اور راوی نے پوری حدیث اخیر تک بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 487]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ بنو سعد بن بکر نے ضمام بن ثعلبہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا، تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے آ کر اپنا اونٹ دروازے کے پاس بٹھایا، پھر اسے باندھا اور مسجد کے اندر آ گیا اور مذکورہ بالا حدیث کی مانند بیان کیا۔ اس نے کہا: ”تم میں سے ابن عبدالمطلب کون ہے؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ابن عبدالمطلب ہوں۔“ اس نے کہا: ”اے ابن عبدالمطلب!“ اور حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 487]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6353)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/250، 264، 265) (حسن)»
وضاحت: صحیح بخاری میں یہ روایت مفصل آئی ہے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سوالات پوچھے آپ نے ان سوالات کے جوابات دئیے پھر یہ ایمان لے آئے تھے (صحیح بخاری حدیث ۶۳) اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ غیر مسلم یہود، نصاریٰ، ہندو یا مجوسی وغیرہ کوئی بھی ہوں کسی بھی معقول ضرورت سے مسجدوں میں آ سکتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 487 in Urdu
كريب بن أبي مسلم القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي