سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب في المواضع التي لا تجوز فيها الصلاة
باب: ان جگہوں کا بیان جہاں پر نماز ناجائز ہے۔
حدیث نمبر: 489
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي ذَرّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے ساری زمین ذریعہ طہارت اور مسجد بنائی گئی ہے“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 489]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: 11969)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/145، 147، 248، 256) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ہر پاک زمین تیمم کرنے اور نماز پڑھنے کے لائق بنا دی گئی ہے، یہ صرف امت محمدیہ کی خصوصیت ہے کہ ہم بالعموم ہر جگہ نماز پڑھ سکتے ہیں، سوائے چند مخصوص مقامات کے جن کا ذکر آگے احادیث میں آ رہا ہے۔ پہلی امتوں کو اس کے لئے بڑا اہتمام کرنا پڑتا تھا، وہ صرف عبادت خانوں ہی میں نماز پڑھ سکتی تھیں، دوسری جگہوں پر نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وله شواھد عند البخاري (335،438) ومسلم (521) وغيرهما
وله شواھد عند البخاري (335،438) ومسلم (521) وغيرهما
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
489
| جعلت لي الأرض طهورا ومسجدا |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 489 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 489
489۔ اردو حاشیہ:
➊ یہ امت محمدیہ کی خصوصیت ہے کہ ہم بالعموم ہر جگہ نماز پڑھ سکتے ہیں۔ سوائے چند مخصوص مقامات کے جن کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ جب کہ دیگر امتوں کے لئے پابندی تھی کہ اپنے مخصوص عبادت خانوں میں ہی نماز ادا کریں۔
➋ پاک مٹی اور اس کی تمام اجناس سے تیمم جائز ہے۔
➊ یہ امت محمدیہ کی خصوصیت ہے کہ ہم بالعموم ہر جگہ نماز پڑھ سکتے ہیں۔ سوائے چند مخصوص مقامات کے جن کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ جب کہ دیگر امتوں کے لئے پابندی تھی کہ اپنے مخصوص عبادت خانوں میں ہی نماز ادا کریں۔
➋ پاک مٹی اور اس کی تمام اجناس سے تیمم جائز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 489]
عبيد بن عمير الجندعي ← أبو ذر الغفاري