سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
73. باب في الرجل يقول لابن غيره يا بنى
باب: دوسرے کے بیٹے کو اے میرے بیٹے کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4964
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , وَمُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ وَسَمَّاهُ ابْنُ مَحْبُوبٍ الْجَعْدَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: يَا بُنَيَّ" , قَالَ أبو داود: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يُثْنِي عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ مَحْبُوبٍ، وَيَقُولُ: كَثِيرُ الْحَدِيثِ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے میرے بیٹے!“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4964]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأدب 6 (2151)، سنن الترمذی/الأدب 62 (2831)، (تحفة الأشراف: 514)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/163) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2151)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5623
| عن أنس بن مالك قال قال لي رسول الله يا بني |
جامع الترمذي |
2831
| عن أنس أن النبي قال له يا بني |
سنن أبي داود |
4964
| عن أنس بن مالك أن النبي قال له يا بني |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4964 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4964
فوائد ومسائل:
کسی اور کے بچے کو پیار سے بیٹے یا میرے بیٹے کہ کر پکارلینے میں کوئی حرج نہیں۔
سورۃ احزاب میں جو حکم ہے کہ انہیں ان کے باپوں سے پُکارو۔
یہ لے پالک بچوں کے متعلق ہے کہ ان کے اصل نسب کی شہرت ختم نہ کرو۔
ورنہ پیار سے اور مجازََا اس طرح کہنا جائز ہے۔
کسی اور کے بچے کو پیار سے بیٹے یا میرے بیٹے کہ کر پکارلینے میں کوئی حرج نہیں۔
سورۃ احزاب میں جو حکم ہے کہ انہیں ان کے باپوں سے پُکارو۔
یہ لے پالک بچوں کے متعلق ہے کہ ان کے اصل نسب کی شہرت ختم نہ کرو۔
ورنہ پیار سے اور مجازََا اس طرح کہنا جائز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4964]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2831
کسی کو پیار و شفقت سے ”میرے بیٹے“ کہنے کا بیان۔
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «يا بني» ”اے میرے بیٹے“ کہہ کر پکارا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2831]
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «يا بني» ”اے میرے بیٹے“ کہہ کر پکارا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2831]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس سے ثابت ہوا کہ اپنے بیٹے کے علاوہ بھی کسی بچے کو ”اے میرے بیٹے!“ کہا جا سکتا ہے۔
وضاحت:
1؎:
اس سے ثابت ہوا کہ اپنے بیٹے کے علاوہ بھی کسی بچے کو ”اے میرے بیٹے!“ کہا جا سکتا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2831]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5623
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”اے میرے بیٹے!“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5623]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
کسی دوسرے انسان کے لیے کم عمر بیٹے کو پیار و محبت اور شفقت و لطف کے لئے،
اے میرے بیٹے (يا بنی،
يا بنی)
اے میرے بچے (يا ولدی)
کہنا جائز ہے،
جیسا کہ اپنے ہم عمر کو اس بنا پر (يا اخی)
کہنا درست ہے اور اپنے سے بڑی عمر کے شخص کو (يا عمی) (اے چچا)
کہنا صحیح ہے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
کسی دوسرے انسان کے لیے کم عمر بیٹے کو پیار و محبت اور شفقت و لطف کے لئے،
اے میرے بیٹے (يا بنی،
يا بنی)
اے میرے بچے (يا ولدی)
کہنا جائز ہے،
جیسا کہ اپنے ہم عمر کو اس بنا پر (يا اخی)
کہنا درست ہے اور اپنے سے بڑی عمر کے شخص کو (يا عمی) (اے چچا)
کہنا صحیح ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5623]
جعد بن دينار اليشكري ← أنس بن مالك الأنصاري