🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
80. باب قول الرجل زعموا
باب: آدمی کا «زعموا» (لوگوں کا ایسا گمان ہے) کہنا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4972
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ أَوْ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ لِأَبِي مَسْعُودٍ:" مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: فِي زَعَمُوا , قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:"بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ زَعَمُوا" , قال أبو داود: أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: هَذَا حُذَيْفَةُ.
ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ابوعبداللہ (حذیفہ) رضی اللہ عنہ سے یا ابوعبداللہ نے ابومسعود سے کہا تم نے «زعموا» کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا فرماتے سنا؟ وہ بولے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: «زعموا» (لوگوں نے گمان کیا) آدمی کی بہت بری سواری ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4972]
جناب ابوقلابہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ابوعبداللہ (سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ) سے یا ابوعبداللہ (حذیفہ رضی اللہ عنہ) نے سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے اس بارے میں کیا سنا ہے جو لوگ «زَعَمُوا» کے انداز میں بات کرتے ہیں؟ (لوگوں کا خیال ہے۔ باور کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے وغیرہ)۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «زَعَمُوا» آدمی کی بہت بری سواری ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوعبداللہ سے مراد سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4972]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3364)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/119، 5/401) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: چونکہ  «زعموا»  کا تعلق ایسے قول اور ایسی بات سے ہے جو غیر یقینی ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لفظ و اپنے مقصد کے لئے سواری بنانے اور اس کی آڑ لے کر کوئی ایسی بات کہنے سے منع کیا ہے جو غیر محقق ہو اور جو پایہ ثبوت کو نہ پہنچتی ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (4777)
أخرجه أحمد (5/401) وابن أبي شيبة (8/448، 449) وأبو نعيم في معرفة الصحابة (5/2949 ح6885) وللحديث شواھد


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥حذيفة بن اليمان العبسي، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥أبو مسعود الأنصاري، أبو مسعود
Newأبو مسعود الأنصاري ← حذيفة بن اليمان العبسي
صحابي
👤←👥عبد الله بن زيد الجرمي، أبو كلابة، أبو قلابة
Newعبد الله بن زيد الجرمي ← أبو مسعود الأنصاري
ثقة
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← عبد الله بن زيد الجرمي
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة مأمون
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي
ثقة حافظ إمام
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
4972
بئس مطية الرجل زعموا
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4972 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4972
فوائد ومسائل:
لوگوں سے سنی سنائی بے اصل باتوں کو بلا تحقیق وتفتیش آگےنقل کر نا بہت براہے۔
کئی لوگ اپنے وہم شبہے یا جھوٹ کو لاگ لپیٹ سے آگے بڑھانے میں بڑے شاطرہوتے ہیں بالخصوص موجودہ لادینی صحافت کا تو یہ طرہ امتیاز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4972]

Sunan Abi Dawud Hadith 4972 in Urdu